صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 24
صحيح البخاري - جلد ) ۲۴ ا - كتاب بدء الوحي فَدَفَعَهُ إِلَى هِرَقْلَ فَقَرَأَهُ فَإِذَا فِيْهِ: نے وہ خط ہر قل کو پہنچا دیا تھا۔ اس نے اس کو پڑھا۔ اس بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ میں یہ تھا: اللہ کے نام کے ساتھ جو رحمن اور رحیم ہے مِنْ مُّحَمَّدٍ عَبْدِ اللَّهِ وَرَسُوْلِهِ إِلَى هِرَقْلَ محمد کی طرف سے جو کہ اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہے، عَظِيمِ الرُّوْمِ سَلَامٌ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ ہر قل شاہ روم کی طرف۔ سلامتی ہو اس پر جو راستی کی الْهُدَى أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي أَدْعُوكَ بِدِعَايَةِ پیروی کرتا ہے۔ اس کے بعد میں تجھے اسلام کی دعوت الْإِسْلَامِ أَسْلِمْ تَسْلَمْ يُؤْتِكَ اللهُ أَجْرَكَ دیتا ہوں ۔ مسلمان ہو جا تو سلامت رہے گا۔ اللہ تجھے مَرَّتَيْنِ فَإِنْ تَوَلَّيْتَ فَإِنَّ عَلَيْكَ إِثْمَ تیرا اجر دو ہرا دے گا اور اگر تو نے منہ پھیرا تو یقینا تیری الْأَرِيسِينَ وَ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا رعایا کے گناہ کا وبال بھی تجھ پر پڑے گا۔ اے اہل إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَنْ لَّا كتاب ! آؤ اس بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلَا درمیان مشترک ہے۔ وہ یہ کہ ہم اللہ ہی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ ٹھہرائیں يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللَّهِ اور نہ ہم اللہ کے سوا اللہ کے سوا ایک دوسرے کو رب سمجھیں۔ پس فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُوْلُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا اگر وہ اس سے روگردانی کریں۔ تو تو انہیں کہہ دے: مُسْلِمُونَ (آل عمران : ٦٥) گواہ رہو کہ ہم اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار ہیں۔ قَالَ أَبُو سُفْيَانَ فَلَمَّا قَالَ مَا قَالَ وَفَرَغَ ابوسفیان نے کہا کہ جب ہر قل جو کچھ اس نے کہنا تھا کہہ مِنْ قِرَاءَةِ الْكِتَابِ كَثُرَ عِنْدَهُ الصَّحَبُ چکا اور خط کے پڑھنے سے فارغ ہوا تو وہاں بہت شور ہوا اور آوازیں بلند ہوئیں اور ہمیں وہاں سے نکال دیا گیا۔ وَارْتَفَعَتِ الْأَصْوَاتُ وَأُخْرِجْنَا فَقُلْتُ جب ہم نکال دیئے گئے تو میں نے اپنے ساتھیوں سے لِأَصْحَابِي حِيْنَ أُخْرِجْنَا لَقَدْ أَمِرَ أَمْرُ کہا: ابو کبشہ کے بیٹے کا معاملہ اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ ابْنِ أَبِي كَبْشَةَ إِنَّهُ يَخَافُهُ مَلِكُ بَنِي اِس سے تو رومیوں کا بادشاہ بھی ڈرتا ہے۔ اور مجھے اس الْأَصْفَرِ فَمَا زِلْتُ مُوْقِنَا أَنَّهُ سَيَظْهَرُ وقت سے یقین ہو گیا تھا کہ آپؐ ضرور غالب ہو جائیں گے۔ یہاں تک کہ یہ وقت آیا جب ) خود اللہ نے حَتَّى أَدْخَلَ اللَّهُ عَلَيَّ الْإِسْلَامَ اسلام کو مجھ میں لا داخل کیا۔ وَكَانَ ابْنُ النَّاطُوْرِ صَاحِبُ إِيْلِيَاءَ اور ابن ناطور جو کہ بیت المقدس کا حاکم اور ہرقل کا