صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 23
صحيح البخاری جلد ا ۲۳ ا - كتاب بدء الوحي فَذَكَرْتَ أَنَّهُمْ يَزِيدُوْنَ وَكَذَلِكَ أَمْرُ کے پیرو ہوئے ہیں اور یہی لوگ رسولوں کے پیرو ہوتے الْإِيْمَانِ حَتَّى يَتِمَّ وَسَأَلْتُكَ أَيَرْتَدُّ أَحَدٌ ہیں اور میں نے تم سے پوچھا تھا کہ وہ بڑھ رہے ہیں یا گھٹ رہے ہیں۔تم نے بیان کیا کہ وہ بڑھ رہے ہیں اور سَخْطَةً لِدِينِهِ بَعْدَ أَنْ يَدْخُلَ فِيْهِ ایمان کا یہی معاملہ ہوتا ہے یہاں تک کہ اپنے کمال کو پہنچ فَذَكَرْتَ أَنْ لَّا وَكَذَلِكَ الْإِيْمَانُ حِيْنَ جاتا ہے اور میں نے تم سے پوچھا تھا کہ آیا کوئی اس کے تُخَالِطُ بَشَاشَتُهُ الْقُلُوْبَ وَسَأَلْتُكَ هَلْ دین میں داخل ہوکر پھر اس کے دین کو نا پسند کرنے کی وجہ سے مرتد ہوتا ہے؟ تو تم نے بیان کیا کہ نہیں اور ایمان کی يَغْدِرُ فَذَكَرْتَ أَنْ لَا وَكَذَلِكَ الرُّسُلُ بھی یہی کیفیت ہوتی ہے جب اس کی بشاشت دلوں میں لَا تَغْدِرُ وَسَأَلْتُكَ بِمَا يَأْمُرُكُمْ فَذَكَرْتَ رچ جاتی ہے اور میں نے تم سے پوچھا تھا کہ کیا وہ عہد شکنی أَنَّهُ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوْا کرتا ہے تو تم نے بیان کیا کہ نہیں اور رسول ایسے ہی ہوتے ہیں۔وہ عہد شکنی نہیں کیا کرتے اور میں نے تم سے پوچھا تھا بِهِ شَيْئًا وَيَنْهَاكُمْ عَنْ عِبَادَةِ الْأَوْثَانِ کہ وہ تمہیں کیا حکم دیتا ہے۔تم نے بیان کیا کہ وہ تمہیں حکم وَيَأْمُرُكُمْ بِالصَّلَاةِ وَالصِّدْقِ وَالْعَفَافِ دیتا ہے کہ تم اللہ کی پرستش کرو اور کسی چیز کو بھی اس کے ساتھ شریک نہ ٹھہراؤ اور تمہیں بتوں کی پرستش سے فَإِنْ كَانَ مَا تَقُوْلُ حَقًّا فَسَيَمْلِكُ روکتا ہے اور تمہیں نماز، راستی، پاکدامنی کا حکم دیتا ہے۔مَوْضِعَ قَدَمَيَّ هَاتَيْنِ وَقَدْ كُنْتُ أَعْلَمُ پس اگر جو کچھ تم کہتے ہو سچ ہے تو عنقریب وہ میرے ان أَنَّهُ خَارِجٌ لَمْ أَكُنْ أَظُنُّ أَنَّهُ مِنْكُمْ فَلَوْ قدموں کی جگہ کا مالک ہو جائے گا اور میں تو پہلے ہی جانتا تھا کہ وہ ظاہر ہونے والا ہے۔لیکن مجھے یہ گمان نہ تھا کہ وہ تم أَنِّي أَعْلَمُ أَنِّي أَخْلُصُ إِلَيْهِ لَتَجَشَّمْتُ ( عرب لوگوں ) میں سے ہوگا اور اگر مجھے علم ہو کہ میں اس لِقَاءَهُ وَلَوْ كُنْتُ عِنْدَهُ لَغَسَلْتُ عَنْ تک صحیح سلامت پہنچ جاؤں گا تو میں ضرور اس کی ملاقات قَدَمَيْهِ ثُمَّ دَعَا بِكِتَابِ رَسُولِ اللهِ کے لئے مشقت بھی برداشت کرتا اور اگر میں اس کے پاس ہوتا تو اس کے پاؤں دھوتا۔اس کے بعد ہر قل نے رسول صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي بَعَثَ بِهِ الا صل اللہ علیہ سلم کا وہ خط منگوایا جو آپ نے دحیہ کلبی ) {مَعَ دِحْيَةَ * } إِلَى عَظِيْمِ بُصْرَی کے ہاتھ * بصری کے حاکم کو بھیجا تھا اور پھر حاکم بصری وو " لفظ " مع " عمدة القاري شرح صحیح البخاری کے مطابق ہے۔(عمدۃ القاری جزء اول صفحہ ۹۲ )