صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 20 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 20

صحيح البخاری جلد ا ۲۰ ا - كتاب بدء الوحي مِنَ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ۔ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدُ بِالْخَيْرِ تھے اور آپ کے ساتھ قرآن مجید کا دور کیا کرتے تھے۔ اس وقت تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بارش لانے والی ہوا سے بھی زیادہ بھی ہوتے ۔ اطرافه: ۱۹۰۲ ، ٣۲۲۰، ٣٥٥٤، ٤٩٩٧۔ باب ٦ : حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ الْحَكَمُ بْنُ : ہم سے ابوالیمان حکم بن نافع نے بیان کیا، کہا کہ نَافِعٍ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ شعیب نے زہری سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلایا کہ قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زہری نے) کہا: عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُوْدٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ مجھے بتلایا کہ حضرت عبداللہ بن عباس نے ان کو بتلایا کہ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ بْنَ حَرْبٍ أَخْبَرَةُ ابوسفیان بن حرب نے ان سے ذکر کیا کہ ہ ہا کہ ہر قل نے اسے مع قافلۂ قریش کے بلوا بھیجا اور وہ سب شام میں بغرضِ أَنَّ هِرَقْلَ أَرْسَلَ إِلَيْهِ فِي رَكْبٍ مِنْ تجارت گئے ہوئے تھے۔ یہ اس زمانہ کا واقعہ ہے جبکہ قُرَيْشٍ وَكَانُوْا تِجَارًا بِالشَّامِ فِي الْمُدَّةِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوسفیان اور منکرین قریش الَّتِي كَانَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کے ساتھ میعادی صلح کی ہوئی تھی۔ وہ اس کے پاس آئے وَسَلَّمَ مَادَّ فِيْهَا أَبَا سُفْيَانَ وَكُفَّارَ اور وہ بیت المقدس میں تھا۔ اس نے انہیں اپنی مجلس میں قُرَيْشٍ فَأَتَوْهُ وَهُمْ بِإِبْلِيَاءَ فَدَعَاهُمْ فِي بلوایا اور اس وقت اس کے ارد گر د رومی رؤسا موجود تھے۔ مَجْلِسِهِ وَحَوْلَهُ عُظَمَاءُ الرُّوْمِ ثُمَّ ہر قل نے ان کو آگے بلایا اور اپنے ترجمان کو بھی با کو بھی بلایا۔ اس دَعَاهُمْ وَدَعَا بِتَرْجُمَانِهِ فَقَالَ أَيُّكُمْ نے پوچھا کہ رشتہ میں تم میں سے کون زیادہ قریبی ہے اس شخص کا ؛ جو کہتا ہے کہ وہ نبی ہے۔ ابو سفیان کہتے تھے کہ أَقْرَبُ نَسَبًا بِهَذَا الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ میں نے کہا: ان لوگوں میں سے میں رشتہ میں زیادہ قریبی أَنَّهُ نَبِيٌّ فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ فَقُلْتُ أَنَا ہوں۔ اس پر اس نے کہا: اس کو میرے نزدیک کرو اور اس أَقْرَبُهُمْ نَسَبًا فَقَالَ أَدْنُوْهُ مِنِّي وَقَرِّبُوا کے ساتھیوں کو بھی قریب کرو اور انہیں اس کی پیٹھ کے پیچھے أَصْحَابَهُ فَاجْعَلُوْهُمْ عِنْدَ ظَهْرِهِ ثُمَّ قَالَ رَکھو۔ پھر اس نے اپنے ترجمان سے کہا انہیں کہہ دو کہ میں ما: لِتَرْجُمَانِهِ قُلْ لَّهُمْ إِنِّي سَائِلٌ هَذَا عَنْ اس سے اُس شخص کے متعلق سے دریافت کرنے لگا ہوں۔ فتح الباری مطبوعہ بولاق میں اس جگہ لفظ ”ھو “ ہے۔ ( فتح الباری جزء اول حاشیہ صفحہ ۴۳) الفاظ عن هذا فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہیں ( فتح الباری جزء اول حاشیہ صفحہ ۴۴)