صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 19 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 19

صحيح البخاري - جلد ) ۱۹ ا - كتاب بدء الوحي یہ بطور نمونہ کے اس شخص کی رائے ہے جو نہایت متعصب عیسائی ہے۔ ان متعصب مصنفین کے علاوہ ایک اور گروہ محققین کا ہے جنہوں نے اپنی تحقیق میں صحیح راہ اختیار کی ہے اور یقین کے ساتھ یہ فیصلہ کیا ہے کہ Certain it is that the attacks with which Mohammad suffered were not of the nature of epilepsy۔ I can not accept Spranger's assertion that Mohammad was hysterical۔۔۔۔۔ (Prof۔ De Goeje Noldeke Festschrift, page:1-5) ویقینی بات یہ ہے کہ محمد (ﷺ) پر یہ حملے مرگی وغیرہ کے نہ تھے جیسا کہ سپرینگر کا خیال ہے، نہ آپ کو ہسٹریا کی بیماری تھی ۔“ یہ کہہ کر پروفیسر مذکور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاکیزہ اخلاق پر ایک نظر ڈالتا ہے کہ آپ کی متانت و سنجیدگی ، آپ کا جزم وعزم، آپؐ کا واقعات سے بیچ بیچ نتائج نکالنا اور بل از وقت نتار سے صحیح صحیح نتائج نکالنا اور قبل از وقت نتائج کی اہمیت کا صحیح اندازہ لگانا، آپ کا ضبط نفس، آپ کی اعلیٰ تعلیم وغیرہ یہ سب باتیں کسی بیمار ذہنیت کا نتیجہ نہیں ہو سکتیں۔ اور یہ جو کہا جاتا ہے کہ آپ کو بچپن میں بھی مرگی کے دورے پڑا کرتے تھے؛ یہ سب ایسی باتیں ہیں جو نا قابل اعتماد ہیں۔ بابه : حَدَّثَنَا عَبْدَانُ قَالَ أَخْبَرَنَا ٦ : ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا: عبداللہ نے ہمیں عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنِ بتلایا ۔ (عبد اللہ نے) کہا: یونس نے زہری سے الزُّهْرِيِّ ح وَحَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلایا اور امام بخاری نے قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ کہا: * بشر بن محمد نے نے ؟ بھی ہم سے بیان کیا، کہا: وَمَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ نَحْوَهُ قَالَ عبد الله نے : نے ہم سے بیان کیا، کہا: یونس اور معمر نے زہری سے اسی طرح روایت کرتے ہوئے ہمیں أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ بتلایا۔ کہتے تھے کہ عبید اللہ بن عبد اللہ نے حضرت ابن عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عباس سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتلایا کہ انہوں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدَ النَّاسِ وَكَانَ أَجْوَدُ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام لوگوں سے مَا يَكُوْنُ فِي رَمَضَانَ حِيْنَ يَلْقَاهُ بُڑھ کرتی تھے اور زیادہ سخاوت جو آپؐ فرماتے تو جِبْرِيلُ وَكَانَ يَلْقَاهُ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ مِّنْ رمضان میں فرماتے۔ جبکہ جبرائیل آپ سے ملتے اور رَّمَضَانَ فَيُدَارِسُهُ الْقُرْآنَ فَلَرَسُولُ اللهِ جبرائیل رمضان میں ہر رات کو آپؐ سے ملا کرتے فتح الباری مطبوعہ بولاق میں لفظ ”قال ہے۔ (فتح الباری جزء اول حاشیہ صفحہ (۴) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔ ☆