صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 18 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 18

صحيح البخاری جلد ا ۱۸ ا - كتاب بدء الوحي " کیا ہے مگر باوجود اس کے کہ ان دونوں نے سعید بن جبیر سے سنا۔ان میں سے دور اویوں کا اس حصہ روایت کو نظر انداز کر دینا اور ابوعوانہ کا ” قال “ نہ دھرانا بتلاتا ہے کہ حضرت ابن عباس کا یہ قول نہیں۔اس لئے بالکل ممکن ہے کہ خود سعید بن جبیر یا ابوعوانہ نے ہی حضرت ابن عباس سے آیت کا شان نزول سن کر یہ قیاس کر لیا ہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حکم کی ضرور تعمیل کی ہوگی مگر تمل یا عدم تعمیل کا تعلق وہاں ہوتا ہے جہاں انسان کا ارادہ کام کر رہا ہوتا ہے۔جتنی بھی تجلیات وحی ہیں، اُن میں ارادہ کا قطعاً کوئی دخل نہیں ہوتا۔تمام حواس ظاہر یہ کم و بیش حالت تعطل میں ہوتے ہیں۔امام بخاری علیہ الرحمہ اس روایت کو یہاں محولہ بالا آیت کی تفسیر کرنے کی غرض سے نہیں لائے بلکہ صرف اس قدر بتلا نا مقصود ہے کہ آپ پر یہ تجلی وحی بطور خارق عادت کے اور غیر معمولی حالات کے ساتھ ظاہر ہوا کرتی تھی۔اس میں کوئی تصنع یا بناوٹ نہ تھی اورنہ وہ کسی بیاری کا نتیجہ ہوسکتی تھی کیونکہ وہ بڑی بڑی صداقتوں اور حقائق پر مشتمل ہوتی تھی۔شروع میں تو آپ نے اس بار نبوت کے اٹھانے سے انکار کیا اور کچھ پریشان خاطر ہوئے مگر بار بار کی تجلیات سے اور إِقْرَأْ باسم رَبَّكَ جیسے صریح حکم کے ماتحت جب آپ کو پورا انشراح صدر ہوا تو آپ اپنی خلوت سے باہر آئے اور پورے اہتمام سے اللہ تعالیٰ کا حکم بجالائے اور ہو بہو یہی حال تمام انبیاء کا ابتدائے نبوت کے وقت ہوتا ہے۔یہ مقصد ہے امام بخاری علیہ الرحمۃ کا اس روایت کے لانے سے۔چنانچہ اس کے بعد جو روایت لائے ہیں، اس سے بھی اس مضمون کی تائید ہوتی ہے یعنی جبرائیلی تجلی جب رمضان میں آپ پر کثرت سے ہوتی ہے تو آپ کی معنویات میں بھی نمایاں تغیر ہو جاتا ہے کیونکہ انبیاء اللہ تعالیٰ کے انعاموں کو دیکھ کر اس کی طرف اور جھکتے ہیں اور جن راہوں سے وہ خوش ہوتا ہے ان پر تیزی سے گامزن ہوتے ہیں۔یا اس شکر یہ احساس کے علاوہ اور قسم کے جذبات محبت الہی بھی کام کر رہے ہو نگے۔کچھ بھی ہو، بہر حال ان امور پر یکجائی طور پر نظر ڈالنے سے اس بات کا صاف پتہ چلتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان ربانی تجلیات کے متعلق کس صداقت اور یقین کامل کے مقام پر کھڑے تھے۔یہی وجہ ہے کہ سخت سے سخت متعصب عیسائی مصنف بھی جن کے ایک ایک فقرے سے نفرت و عداوت کا زہر ٹپکتا ہے، اس بات کا اقرار کرنے پر مجبور ہوئے ہیں کہ آپ کا دعویٰ نبوت تصنع اور بناوٹ سے پاک تھا۔چنانچہ ہے۔ایم۔آرنلڈ (J۔M۔Arnald) مشہور عیسائی متعصب مصنف کو بھی بایں الفاظ اس حقیقت کا اقرار ہے:۔Assuming۔۔۔۔we can not believe that Mohammad commenced his work as an ambitious conqueror or as a base impostor who had no faith in himself or his mission۔(Islam to Christianity, page:72,73 by:John Machleisen Arnald,D۔O) یعنی یہ یہ باتیں فرض بھی کر لیں ، تب بھی فلاں فلاں بات پر نظر ڈالنے کے بعد ہم کبھی باور نہیں کر سکتے کہ آپ نے اپنا یہ کام ایک حریص فاتح یا ایک ایسے کمینہ مفتری کی طرح شروع کیا جس کو اپنے متعلق اور نیز اپنے مشن کے متعلق یقین نہیں تھا۔