صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 17
صحيح البخاری جلد ا ۱۷ ا - كتاب بدء الوحى محققین نے یہ بات تسلیم کی ہے کہ سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس سے یہ یہ ضرور ضرور سنا سنا اور اور حضرت ابن ابن عباس عباس نے انہیں ہونٹ ہلا کر دکھلائے ۔ ( فتح الباری جزء اول صفحہ ۴۰ - عمدة القاری جزء اول صفحہ ۷۳- شرح البخاری للقسطلانی جزء اول صفحه ۶۹ ) کیونکہ سعید بن جبیه جبیر علم و تقویٰ میں بہت بڑے مقام پر تھے اور ایک امام مانے گئے ہیں اور موسیٰ بن ابی عالم اور موسیٰ بن ابی عائشہ بھی ثقہ ہیں اور ابوعوانہ بھی نہایت سچے راوی تسلیم کئے گئے ہیں ، سوائے اس کے کہ ان کا حافظہ کمزور تھا۔ جس کی وجہ سے وہ روایات کو لکھ لیا کرتے تھے۔ اگر وہ اپنے حافظہ کی بناء پر کوئی روایت کرتے تو مفہوم میں کمی بیشی ہو جاتی لیکن تحریری روایت میں پوری صحت مد نظر رکھتے تھے۔ وَإِذَا حَدَّث مِنْ حِفْظِهِ غَلَطَ كَثِيرًا۔ ابوسلمه موسى بن اسمعیل منقری جن سے امام بخاری رحمہ اللہ علیہ نے یہ روایت سنی ، وہ بھی ثقہ ہیں ۔ (عمدۃ القاری جزء اول صفحہ ۷۰ ) گوتا بعین میں سے اس روایت کو حضرت ابن عباس سے بلا واسطہ بیان کرنے والے سوائے سعید بن جبیر کے اور کوئی نہیں اور نہ صحابہ میں سے حضرت ابن عباس کے سوا کسی صحابی نے یہ روایت کی ہے مگر یہ دونوں راوی بہت پایہ کے انسان ہیں اور یہ احتمال کہ ممکن ہے؛ ابو عوانہ نے نقل میں الفاظ کم و بیش کر دیئے ہوں۔ ایک حد تک اس طرح رفع ہو جاتا ہے کہ موسیٰ بن ابی عائشہ سے ابو عوانہ کے سوائے اوروں نے بھی اس کو نقل کیا۔ مثلاً سفیان بن عیینہ اور اسرائیل اور جریر نے۔ چنانچہ امام بخاری نے کتاب التفسیر میں زیر آیات مذکورہ بالا حمیدی اور عبید اللہ بن موسیٰ اور قتیبہ بن سعید کی سند سے روایتیں ان تین راویوں سے نقل کی ہیں۔ (دیکھئے روایت نمبر ۴۹۲۷ ، ۴۹۲۸، ۴۹۲۹) اور انہوں نے موسیٰ بن ابی عائشہ سے ، اور وہ سعید بن جبیر سے، اور سعید نے حضرت ابن عباس سے روایت کرتے ہوئے اسے نقل کیا ہے ۔ گو لفظوں ! معانی میں کمی بیشی ضرور ہے۔ مگر اس سے یہ نتیجہ نہیں نکالا جا سکتا کہ اصول روایت کے اعتبار سے اس کی صحت میں خلل ہے اور یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایسی حالت کبھی طاری نہیں ہوئی۔ اس لئے محققین نے باوجود انتقاد کے اس روایت کو قبول کیا ہے۔ وں اور ان روایتوں سے کم از کم یہ بات یقینی طور پر معلوم ہوتی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حالت نزول وحی کے وقت تبدیل ہو جایا کرتی تھی اور جسمانی علائق سے جو عارضی طور پر انقطاع واقع ہوتا اس سے آپ کو غیر معمولی تکلیف ہوتی جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بیان سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے اور یہ بات بھی روحانی مشاہدات میں یقینی ہے کہ تجلی وحی کی ایک ایسی حالت بھی ہوتی ہے جس میں زبان بغیر کسی محرک کے خود بخود حرکت کرنی شروع کر دیتی ہے اور جو الفاظ اس پر جاری ہوتے ہیں۔ وہ علم غیب پر مشتمل ہوتے ہیں ۔ وَمِمَّا يُحَرِّكُ بِهِ شَفَتَيْهِ کی نحوی ترکیب سے ظاہر ہے کہ یہ حالت آپ پر کبھی کبھی وارد ہوتی ۔ جیسا کہ امام ابن حجر اور دیگر شارحین نے بھی مما کے متعلق سیبویہ کا مذہب نقل کر کے اس مفہوم کو مثالوں سے واضح کیا ہے۔ ( فتح الباری جزء اول صفحہ ۴۰) فَكَانَ رَسُولُ اللهِ الا اللهِ إِذَا آتَاهُ جِبْرِيلُ : یہ الفاظ حضرت ابن عباس کے نہیں معلوم ہوتے بلکہ ابو عوانہ کے ہیں۔ کیونکہ اس سے پہلے حسب معمول لفظ ” قَالَ " نہیں دھرایا۔ نیز سفیان بن عیینہ اور اسرائیل نے اپنی روایت میں یہ حصہ بیان نہیں کیا۔ گو جریر نے ” قَالَ “ کہہ کر حضرت ابن عباس کی طرف اس آخری حصہ روایت کو منسوب