صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 14
صحيح البخاري - جلد ا ا - كتاب بدء الوحي ٤ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَأَخْبَرَنِي :۴: ابن شہاب نے (یہ بھی ) کہا کہ ابوسلمہ بن عبدالرحمن أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ جَابِرَ بْنَ نے مجھے بتلایا کہ حضرت جابر بن عبداللہ انصاری نے عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ قَالَ وَهُوَ يُحَدِّثُ جبکہ وہ وحی کے موقوف ہو جانے کے متعلق باتیں کر رہے عَنْ فَتْرَةِ الْوَحْيِ فَقَالَ فِي حَدِيثِهِ بَيْنَا تھے کہا کہ رسول اللہ علیہ نے فرمایا: اس اثناء میں کہ میں چلا جا رہا تھا ریکا یک میں نے آسمان سے ایک آواز سنی اور أَنَا أَمْشِي إِذْ سَمِعْتُ صَوْتًا مِنَ آنکھ جو اُٹھائی تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہی فرشتہ ہے جو غار حرا السَّمَاءِ فَرَفَعْتُ بَصَرِي فَإِذَا الْمَلَكُ میں آیا تھا۔آسمان اور زمین کے درمیان ایک کرسی پر الَّذِي جَاءَنِي بِحِرَاءٍ جَالِسٌ عَلَى بیٹھا ہوا ہے۔اس سے خوف زدہ ہو کر میں واپس لوٹ آیا كُرْسِي بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ فَوُعِبْتُ اور میں نے کہا: مجھے کپڑا اوڑھا دو مجھے کپڑا اوڑھا دوں۔مِنْهُ فَرَجَعْتُ فَقُلْتُ زَمِلُوْنِي فَأَنْزَلَ تب اللہ تعالیٰ نے یہ وحی کی : يَا أَيُّهَا الْمُدَّقِرُه قُمْ فَأَنْذِرُ۔۔۔اللهُ تَعَالَى: يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِرُ قُمْ فَأَنْذِرْ یعنی اسے کپڑا اوڑھنے والے اُٹھ اور لوگوں کو خطرہ سے إِلَى قَوْلِهِ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ (المدثر: ٢-٦) آگاه کر ( اور اپنے رب کی بڑائی بیان کر اور اپنے کپڑوں فَحَمِيَ الْوَحْيُ وَتَتَابَعَ۔کو پاک وصاف کر۔اللہ تعالیٰ کے اس قول تک اور ہر ایک نا پاک بات سے الگ ہو جا۔پھر وحی خوب زور سے شروع ہوئی اور لگا تار ہوتی رہی۔تَابَعَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوْسُفَ وَأَبُو صَالِحٍ يحي بن بکیر کی طرح عبد اللہ بن یوسف اور ابو صالح نے بھی وَتَابَعَهُ هِلَالُ بْنُ رَدَّادٍ عَنِ الزُّهْرِي اس واقعہ کو بیان کیا۔ایسا ہی ہلال بن رزاد نے بھی زہری سے روایت کرتے ہوئے اسے بیان کیا اور یونس اور معمر نے يَرْجُفُ قُوَّادُه کی جگہ ) يَرْجُفُ بَوَادِرُهُ (کے الفاظ ) وَقَالَ يُونُسُ وَمَعْمَرٌ بَوَادِرُهُ۔نقل کئے ہیں۔یعنی آپ کے مونڈھوں کے پٹھے کا نپتے تھے۔اطرافه ،۳۲۳۸، ٤۹۲۲ ، ٤٩٢٣، ٤۹۲٤، ٤۹۲٥ ٤٩٢٦، ٤٩٥٤، ٦٢١٤۔تشریح: مذکورہ بالا دونوں روایتیں (نمبر ۳ ۳) زہری سے مروی ہیں۔اس لئے دوسری روایت (نمبر۴) قال ابنُ شهَابٍ کہتے ہوئے شروع کی ہے۔دوسری روایت (یعنی نمبر۴ ) واؤ سے شروع کی گئی ہے۔داؤ کا عطف اس سے پہلی روایت پر ہے۔(فتح الباری جزء اول صفحہ ۳۸۔عمدۃ القاری جزء اول صفحہ ۶۶) ترجمہ میں ہم نے اس مفہوم کو فتح الباری مطبوعہ بولاق میں لفظ ”ر ملونی دو مرتبہ ہے۔(فتح الباری جزء اول صفحہ ۳۷) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔