صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 14 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 14

صحيح البخاري - جلد ا ۱ ا - كتاب بدء الوحى : قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَأَخْبَرَنِي : ابن شہاب نے (یہ بھی ) کہا کہ ابو سلمہ بن عبدالرحمن أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ جَابِرَ بْنَ نے مجھے بتلایا کہ حضرت جابر بن عبداللہ انصاری نے عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ قَالَ وَهُوَ يُحَدِّثُ جبکہ وہ وحی کے موقوف ہو جانے کے متعلق باتیں کر رہے عَنْ فَتْرَةِ الْوَحْيِ فَقَالَ فِي حَدِيثِهِ بَيْنَا ھے کہا کہ سول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس اثناء میں کہ میں چلا جا رہا تھا یکا یک میں نے آسمان سے ایک آواز سنی اور أَنَا أَمْشِي إِذْ سَمِعْتُ صَوْتًا مِّنَ آنکھ جو اُٹھائی تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہی فرشتہ ہے جو غار حرا السَّمَاءِ فَرَفَعْتُ بَصَرِي فَإِذَا الْمَلَكُ میں آیا تھا۔ آسمان اور زمین کے درمیان ایک کرسی پر الَّذِي جَاءَنِي بِحِرَاءٍ جَالِسٌ عَلَى بیٹھا ہوا ہے۔ اس سے خوف زدہ ہو کر میں واپس لوٹ آیا كُرْسِيِّ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ فَرُعِبْتُ اور میں نے کہا: مجھے کپڑا اوڑھا دو مجھے کپڑا اوڑھا دو۔ ☆ مِنْهُ فَرَجَعْتُ فَقُلْتُ زَمِّلُونِي فَأَنْزَلَ تب اللہ تعالیٰ نے یہ وحی کی : يَا أَيُّهَا الْمُدَّخِرُه قُم فَأَنذِر ۔۔۔ اللهُ تَعَالَى : يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِرُ قُمْ فَأَنْذِرْ یعنی اسے کپڑا اوڑھنے والے اُٹھ اور لوگوں کو خطرہ سے إِلَى قَوْلِهِ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ (المدثر: ۲-۶) آگاہ کر (اور اپنے رب کی بڑائی بیان کر اور اپنے کپڑوں کو پاک وصاف کر ۔ ) اللہ تعالیٰ کے اس قول تک اور ہر ایک نا پاک بات سے الگ ہو جا۔ پھر وحی خوب زور سے فَحَمِيَ الْوَحْيُ وَتَابَعَ ۔ شروع ہوئی اور لگا تار ہوتی رہی۔ تَابَعَهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ وَأَبُو صَالِحٍ کي بن بکیر کی طرح عبداللہ بن یوسف اور ابو صالح نے بھی وَتَابَعَهُ هِلَالُ بْنُ رَدَّادٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ اس واقعہ کو بیان کیا۔ ایسا ہی ہلال بن رداد نے بھی زہری وَقَالَ يُونُسُ وَمَعْمَرٌ بَوَادِرُهُ۔ سے روایت کرتے ہوئے اسے بیان کیا اور یونس اور معمر نے ( يَرْجُفُ فُؤَادُهُ کی جگہ ) يَرْجُفُ بَوَادِرُهُ ( کے الفاظ ) نقل کئے ہیں ۔ یعنی آپ کے مونڈھوں کے پٹھے کا پیتے تھے۔ اطرافه ۳۲۳۸، ۱۹۲۲ ، ٤۹۲۳، ٤٩٢٤، ٤٩٢٥، ٤٩٢٦، ٤٩٥٤، ٦٢١٤۔ تشریح مذکورہ بالا دونوں روایتیں ( نمبر ۳ ہم زہری سے مروی ہے دونوں روایتیں ( نمبر ۴۳) زہری سے مروی ہیں۔ اسی لئے دوسری روایت (نمبر ۴) قَالَ ابْنُ شِهَابٍ کہتے ہوئے شروع کی ہے۔ دوسری روایت (یعنی نمبر ۴ ) واؤ سے شروع کی گئی ہے۔ داؤ کا عطف اس سے پہلی روایت پر ہے۔ (فتح الباری جزء اول صفحہ ۳۸ - عمدۃ القاری جزء اول صفحہ ۶۶) ترجمہ میں ہم نے اس مفہوم کو فتح الباری مطبوعہ بولاق میں لفظ ”زَمِّلُونی دو مرتبہ ہے۔ ( فتح الباری جزء اول صفحہ ۳۷) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔