صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 15 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 15

صحيح البخاري - جلد ) ۱۵ ا - كتاب بدء الوحي خط وحدانی میں ظاہر کر دیا ہے۔ پہلی روایت عروہ بن زبیر کی ہے اور یہ ابو سلمہ بن عبد الرحمن بن عوف انصاری کی۔ علماء میں اختلاف ہے کہ پہلی وحی کونسی ہے؟ آیا اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ ۔۔۔ يَا يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِرُ قُمْ فَأَنْذِرُ ۔۔۔ امام بخاری نے اپنے استاد ابن شہاب محمد بن مسلم زہری علیہ الرحمۃ کی سند پر اس اختلاف کو یوں حل کیا ہے کہ إِقْرَأْ بِاسْمِ رنگ زمانہ نبوت کے ابتداء میں پہلی وحی ہے اور يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِرُ زمانہ فترت کے بعد پہلی وحی ہے۔ يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِرُه قُمْ فَأَنْذِرُ ۔۔۔۔ فَاهْجُرُه (المدثر : ۲-۶) میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی اغراض بیان کی گئی ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی بڑائی قائم کرنا اور بنی نوع انسان کو ہر قسم کی گندگیوں سے رہائی دے کر پاکیزگی کے مقام پر کھڑا کرنا۔ ثِيَابَكَ فَطَهِّرُ سے مراد ظاہری پاکیزگی ہے۔ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرُ سے مراد باطنی پاکیزگی ہے۔ رجز کے معنی ہر جسم کی کے معنی ہر قسم کی نا پاک باتیں ، مشرکانہ اعتقادات انہ اعتقادات اور بیہودہ خیالات ہیں۔ احکام الہیہ کی بجا آوری میں سب سے پہلے مخاطب انبیاء ہی ہوتے ہیں کیونکہ ان کا عملی نمونہ جس قدر اعلیٰ سے اعلیٰ ہوگا۔ اسی قدر پاکیزہ تاثیرات اپنے ساتھ رکھے گا اور اسی نسبت سے دنیا اس سے مستفیض ہوگی ۔ بَوَادِرُ جمع ہے بَادِرَة کی ۔ وہ گوشت جو مونڈھے اور گردن کے درمیان ہوتا ہے۔ (لسان العرب تحت لفظ بدر ) بعض وقت ڈر سے یہ گوشت پھڑ کنے لگتا ہے۔ باب ٤ ه : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ قَالَ : ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ قَالَ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ ابوعوانہ نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے کہا: موسیٰ بن ابی أَبِي عَائِشَةَ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ عائشہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: سعید بن جبیر نے عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى لَا تُحَرِّكْ حضرت ابن عباس سے روایت کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے اس قول یعنی لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ (القيامة: ١٧) قَالَ لِتَعْجَلَ به کے متعلق ہمیں بتلایا کہ وہ کہتے تھے : كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن مجید کی وحی کے نازل يُعَالِجُ مِنَ التَّنْزِيْلِ شِدَّةً وَكَانَ مِمَّا ہونے سے سخت تکلیف اُٹھاتے اور کبھی آپ اپنے يُحَرِّكُ شَفَتَيْهِ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَأَنَا ہونٹ بھی ہلایا کرتے تے تھے۔ حضرت ابن عمر کہا: میں تمہیں ہونٹوں کو اسی طرح ہلا کر دکھاتا ہوں رة عباس نے أُحَرِّكُهُمَا لَكُمْ كَمَا كَانَ رَسُوْلُ اللَّهِ جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ہلایا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَرِّكُهُمَا وَقَالَ کرتے تھے۔ اور سعید نے کہا: میں بھی انہیں اسی