صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 13 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 13

صحيح البخاری جلد ا ا - كتاب بدء الوحي کتاب فتح الباری میں کیا ہے، ملاحظہ ہو جلد اول صفحہ ۳۴ شرح حدیث مذکور اور علامہ عینی نے بھی۔(عمدۃ القاری جلد اول صفحہ ۵۴) وَفَتَرَ الْوَحْيُ : زمانہ فترت سے مراد وہ زمانہ ہے جس میں جبرائیل کی خاص تھیلی جس کا تعلق قرآن مجید کے نزول کے ساتھ ہے۔ایک وقت تک موقوف رہی۔ورنہ یوں تو روح القدس جو انبیاء اور اولیاء اللہ کی نئی زندگی کے لئے بطور روح رواں کے ہوتا ہے، ایک لحظہ کے لئے بھی ان سے جدا نہیں ہوتا۔اللہ تعالیٰ کی مشیت و ارادہ کی دو قسم کی تجلیات اس کے خاص بندوں پر ہوتی ہیں۔ایک تجلی تو ہر وقت ان کے ارادوں میں روح القدس کے ذریعے سے کام کرتی رہتی ہے اور ایک تجلی جبرائیل کے ذریعے سے تمثلی رنگ میں پوری قوت کے ساتھ ظاہر ہوتی ہے اور اس جبرائیلی تجلی میں جو عارضی وقفہ ہوتا ہے، اس کا نام زمانہ فترت ہے اور اس وقفہ سے یہ مراد نہیں کہ جبرائیل کسی وقت آسمان سے اترتا ہے اور پھر انبیاء کو چھوڑ کر آسمان پر چلا جاتا ہے۔جبرائیل اسی طرح اپنے مقام پر رہ کر اللہ تعالیٰ کی مشیت کی تجلیات ہر وقت اور ہر جگہ پہنچا تا رہتا ہے، جس طرح سورج پانی میں نظر آتا ہے مگر در حقیقت سورج نیچے نہیں اترتا۔اسی طرح جبرائیل کا نزول تمثلی رنگ میں ہوتا ہے، نہ حقیقی طور پر۔طیبی رحمتہ اللہ علیہ نے بھی یہی کہا ہے۔(عمدۃ القاری جزء اول صفحہ ۵۷) پس جس طرح جبرائیل کا آسمان سے اتر نا عام متعارف معنوں میں نہیں، اسی طرح جبرائیلی تجلی میں یہ وقفہ پڑنا بھی اپنے حقیقی معنوں میں نہیں۔بلکہ اس روح القدس کی روشنی ہر وقت اور ہر حال میں انبیاء کے شامل حال ہوتی ہے اور ان کے اندر سکونت رکھتی ہے۔یہی مذہب ہے تمام اہل اللہ کا۔اس مضمون کی تفصیل کے لیے دیکھئے آئینہ کمالات اسلام“۔جہاں ضرورت ملائکہ اور ان کی تجلیات کے متعلق بحث کی گئی ہے وہاں اس اعتراض کا بھی کامل جواب دیا گیا ہے کہ جب روح القدس انبیاء سے جدا نہیں ہوتا تو پھر وہ بعض دفعہ غلطیاں کیوں کرتے رہتے ہیں۔آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۷۲-۱۲۶) زمانہ فترت سے متعلق علماء نے یہ بحث بھی اٹھائی ہے کہ سلسلہ وحی میں کتنی دیر توقف رہا۔امام ابن حجر مختلف روایتیں بیان کر کے آخر میں حضرت ابن عباس کی قابل اعتماد روایت کا ذکر کرتے ہیں کہ وہ چند دن کا وقفہ تھا۔(فتح الباری جزء اول صفحہ ۳۷) اور یہ صحیح ہے۔امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے کتاب الرؤیا میں بھی زہری سے روایت کرتے ہوئے یہی واقعہ غار حراء کا بیان کیا ہے اور آخر میں ان کا یہ قول نقل کیا ہے : فِيْمَا بَلَغَنَا حُزُنًا غَدَا مِنْهُ مِرَارًا كَيْ يَتَرَدَّى مِنْ رُّؤُوسِ شَوَاهِقِ الْجِبَالِ فَكُلَّمَا أَوْفَى بِذِرْوَةِ جَبَلٍ لِكَى يُلْقِيَ مِنْهُ نَفْسَهُ تَبَدَّى لَهُ جِبْرِيلُ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنَّكَ رَسُولُ اللهِ حَقًّا۔۔۔۔(بخارى كتاب التعبير۔باب أول ما بدئ به رسول الله من الوحي۔روایت نمبر ۲۹۸۲) یعنی ہمیں یہ خبر بھی پہنچی ہے کہ آپ کو اس وقفہ سے اس قدر غم ہوا کہ آپ مارے غم کے اونچے اونچے پہاڑوں کی چوٹیوں پر چڑھ کر اپنے آپ کو گرانا چاہتے تھے اور جبرائیل آکر کہتا محمد ﷺ تم واقعہ میں اللہ کے رسول ہو۔یہ قصہ حضرت عائشہ کی مشار الیہ مستند روایت کے سامنے کچھ وقعت نہیں رکھتا۔چنانچہ خود زہری بھی اس کو بے بنیاد قصہ سمجھتے ہیں جیسا کہ ان کے ان الفاظ سے واضح ہوتا ہے : فِيمَا بَلَغَنَا۔یعنی منجملہ ان روایتوں کے جو ہمیں پہنچی ہیں۔۔۔یہ کہ کر اس روایت کی کوئی سند نہ بیان کرنے سے ان کی مراد یہی ہے کہ یہ غیر مستند روایتیں ہیں۔