صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 12 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 12

صحيح البخاری جلد ا ۱۳ ا - كتاب بدء الوحي تھے اور اس نبی کے آنے سے متعلق قدیم نوشتوں میں پیشگوئیاں تھیں اور عیسائیوں اور یہودیوں کو اُس کی آمد کا انتظار تھا جیسا کہ ہم آگے چل کر بتائیں گے اور تورات و انجیل میں اُس کی علامتیں بھی موجود تھیں اور چونکہ ورقہ بن نوفل ان کتابوں کے عالم تھے، اس لئے ان کے پاس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو لے گئیں تا آنے والے نبی کے متعلق خیالات معلوم ہوں اور ان کو بھی تصدیق کا موقع ملے۔چنانچہ انہوں نے فورا شناخت کر لیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نکالے جانے کے متعلق پیشگوئی کا تذکرہ بھی کر دیا جو یسعیاہ نبی نے عرب کے متعلق الہامی کلام کے عنوان کے ماتحت سنائی تھی:- ارے اے بانجھ تو جو نہیں جنتی تھی خوشی سے للکار۔تو جو حاملہ نہ ہوتی تھی وجد کر کے گا اور خوشی سے چلا۔کیونکہ خداوند فرماتا ہے کہ بیکس چھوڑی ہوئی ( ہاجرہ) کی اولا د خصم والی (سارہ) کی اولاد سے زیادہ ہے۔تیرے سب فرزند بھی خداوند سے تعلیم پائیں گے اور تیرے فرزندوں کی سلامتی کامل ہوگی۔تو راستبازی سے پائدار ہو جائے وو 66 (یسعیاہ باب ۵۴) سلع (مدینہ کی پہاڑی کا نام ہے ) کے بسنے والے ایک گیت گائیں گے۔پہاڑوں کی چوٹیوں پر سے للکاریں گے۔وہ خداوند کا جلال ظاہر کریں گے۔(یسعیاہ باب ۴۲ آیت ۱۲-۱۳) عرب کے صحرا میں تم رات کو کاٹو گے۔اے درانیوں ( یعنی اہل یمن) کے قافلو ! اے تیا ( یعنی مدینہ کی سرزمین کے باشندو ! روٹی لے کر بھاگنے والے کے ملنے کو نکلو۔کیونکہ وہ تلواروں کے سامنے سے تنگی تلوار سے اور کھینچی ہوئی کمان سے اور جنگ کی شدت سے بھاگے ہیں۔66 (یسعیاہ باب ۲۱ آیت ۱۳-۱۵) غرض اس قسم کی بہت کی پیشگوئیاں اس نبی کے متعلق ملتی تھیں اور اُس وقت یہود اور نصار کی دونوں کو انتظار تھا اور ورقہ چونکہ رشتہ دار تھے، عالم تھے، عربی اور عبرانی دونوں جانتے تھے ؛ انہوں نے سن کر کہا: یہ وہی ناموس یعنی حامل شریعت ہے جو حضرت موسیٰ پر نازل ہوا تھا۔ناموس کے معنے شریعت کے بھی ہوتے ہیں۔(ماخوذ از لسان العرب تحت لفظ نمس ) ورقہ نے حضرت موسیٰ اس کا ذکر کیا ، حضرت عیسی اس کا ذکر نہیں کیا کیونکہ استثناء باب ۱۸ ( آیت ۱۸) میں نبی موعود کے متعلق جو پیشگوئی ہے اس میں صاف الفاظ میں فرمایا گیا ہے کہ وہ حضرت موسیٰ کی مانند ہو گا اور بنی اسرائیل کے بھائیوں یعنی بنی اسماعیل میں سے پیدا ہوگا۔وہ اپنی نہیں کہے گا بلکہ جو سنے گا وہ کہے گا۔وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحى (النجم: (1) اور حضرت عیسی صاحب شریعت نبی نہ تھے، اس لئے ذکر نہ کیا۔ورقہ بن نوفل کے پاس جانے کی جو غرض و غایت ہم نے بیان کی ہے اس کا ذکر امام ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اپنی