صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 11 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 11

صحيح البخاری جلد ) ا - كتاب بدء الوحي یورپ کے عیسائی علماء نے ( یہ ثابت کرنے کے لئے ) بہت ہاتھ پاؤں مارے ہیں کہ یہ نظارے دماغی بیماری کا نتیجہ تھے مگر جو نظارے دماغی خلل کا نتیجہ ہوتے ہیں ؛ یہ ہوتے ہیں ؛ واقعات ان ات ان کی تصدیق نہیں کرتے۔ إِقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ (العلق : ۴) میں ایک عظیم الشان پیشگوئی ہے جو ایسی عظمت کے ساتھ پوری ہوئی کہ یہی عیسائی آج تک اس کی عظمت سے حیران ہیں۔ اس وحی کا ماحصل یہ ہے: تم پڑھو۔ اس حکم کی تعمیل میں تمہارا اللہ تم سے نہایت کریمانہ سلوک کرنے والا ہے۔ چنانچہ دنیا جانتی ہے کہ واقعات نے ہر پہلو سے اس کی تصدیق کی۔ لَقَدْ خَشِيتُ عَلَى نَفسِی : مجھے تو اپنی جان کا اندیشہ ہو گیا تھا۔ اس کا ایک تو سیدھا سادہ یہ مفہوم ہے کہ اس رعبناک نظارے سے یعنی فرشتہ کے دبانے سے مجھے یہ خوف ہو گیا تھا کہ میری جان چلی۔ اور در حقیقت بعض وقت وحی کی جلالی تجلی سے یہی حالت ہوتی ہے اور دوسرا مفہوم یہ ہے کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو یہ واقعہ بتلا کر آپ یہ فرماتے ہیں: مجھے اب اپنے متعلق فکر پڑ گئی ہے کہ ایک بہت ہی بڑا بوجھ مجھ پر ڈالا جا رہا ہے۔ آپ کو عہدہ رسالت کی نازک ذمہ داریوں کا کامل احساس تھا جس کے ساتھ ہزاروں مشکلات لگی ہوتی ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی اپنے متعلق کئی قسم کے اندیشوں کا ذکر کرتے ہیں کہ میں فصیح نہیں ہوں ۔ (الشعراء: ۱۴) دراصل یہ بہانے نہیں بلکہ کامل عاجزی و تواضع کا اظہار ہے اور نیز یہ خواہش ہے کہ وہ گوشہ تنہائی سے نکل کر دنیا میں دوبارہ نہیں آنا چاہتے ۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا بھی آپ کا مطلب سمجھ کر کہتی ہیں: گلَّا وَاللَّهِ مَا يُخْزِيكَ اللهُ أَبَدًا ۔ یعنی ایسا ہر گز نہیں ہو سکتا۔ اللہ کبھی بھی آپ کو رسوا نہ کرے گا۔ آپ کامیاب ہوں گے۔ خِزْيٌ وہ ذلت و رسوائی ہے جو انسان کو ناکامی سے ہوتی ہے۔ چوتھی بات ت اس حدیث سے اس عظیم الشان شہادت کا پتہ چلتا ہے جو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا ہمارے لئے چھوڑ گئی ہیں۔ وہ اس گھبراہٹ کے وقت بے ساختہ بغیر کسی تصنع کے پورے یقین کے ساتھ کہتی ہیں: كَلَّا وَاللَّهِ مَا يُخْزِيكَ الله أبدًا، یعنی یہ کبھی نہیں ہو سکتا کیونکہ آپ مکارم اخلاق سے متصف ہیں۔ آپ بنی نوع انسان کے ہمدرد ہیں۔ آپ میں ٤۔ وہ وہ خوبیاں ہیں جو آج کل معدوم ہیں ۔ حضرت خدیجہ کی یہ شہادت معمولی شہادت نہیں۔ یہ اس رفیق زندگی کی شہادت ہے جس سے بڑھ کر اور کوئی واقف حال راز دان نہیں ہو سکتا۔ حضرت خدیجہ کی یہ مراد ہے کہ جس شخص کے مکارم اخلاق کی وجہ سے لوگ پہلے ہی گرویدہ ہوں او گرویدہ ہوں اور جو الامين " اپریہ “ کے لقب سے مشہور ہو وہ نا کام کیسے ہوگا۔ ہوگا ؟ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی بعد میں ورقہ بن بن نوفل کے قول پر یہ تعجب ہوتا ہے: أَوَ مُخْرِ جی هُمْ کیا یہ لوگ مجھے نکال دیں گے!! حضرت خدیجہ کا قول اور آپ کا تعجب ایک ہی قسم کے احساس کے ماتحت ہے اور یہ آپ کی بے لوث اور مکارم اخلاق سے بھری ہوئی زندگی پر دلالت کرتا ہے۔ آپ پہلے ہی سے ہمدرد بنی نوع انسان تھے۔ فَانْطَلَقَتْ بِهِ خَدِيجَةُ : حضرت خدیجہ ورقہ بن نوفل کے پاس آپ کو اس لئے نہیں لے گئی تھیں کہ نعوذ باللہ آپ کو کوئی شبہ تھا اور ورقہ سے پوچھنا تھا کہ آیا آپ کے پاس فرشتے آتے ہیں یا جن بھوت۔ بلکہ اس لئے کہ وہ عیسائی