صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 10 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 10

صحيح البخاری جلد ا | + ا - كتاب بدء الوحي بلکہ جیسا کہ بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے؛ میں سال سے پیشتر یہ سلسلہ رو یاد کشوف و تجلیات وحی کا شروع تھا۔تاريخ الأمم والملوك للطبرى ذكر باقى الأخبار من الكائن من أمر رسول الله قبل أن ينبأ الجزء الثاني) اور تمام اولیاء اور انبیاء کے ساتھ یہی سنت الہی ہے کہ خدا تعالیٰ ایک لمبے عرصہ کی تجلیوں سے آہستہ آہستہ ان کو کامل یقین تک پہنچاتا ہے جس کے بعد شک کی گنجائش ہی نہیں رہتی۔غرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے محض اس لئے انکار کیا کہ آپ سمجھتے تھے کہ إقرأ سے کیا مراد ہے اور کس قسم کی ذمہ داری کے بار اٹھانے کے لئے آپ کو کہا گیا ہے۔انبیاء معرفت الہی میں اس مقام پر کھڑے ہوتے ہیں جو سراسر تواضع و تقوی وخشیت کا مقام ہے وہ بار رسالت کو اٹھانے سے ڈرتے ہیں اور اپنے گوشہ تنہائی سے نکلنا نہیں چاہتے۔وہ اسی وقت نکلتے ہیں جب الہی مشیت کی تجلیات اور بار بار کے صریح حکموں کے سامنے بے بس ہو جاتے ہیں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بھی عاجزانہ معذرتیں کیں اور حضرت ہارون اپنے بھائی کو اس منصب نبوت پر کھڑا کرنے کے لئے عرض کیا۔(الشعراء: ۱۴) غَطَّنِي حَتَّى بَلَغَ مِنَى الْجُهْدُ : لفظ الجهد “ کی فتح سے بھی آتا ہے۔جس کے معانی ہیں: اپنی ساری طاقت صرف کر دی۔لیکن رفع کے ساتھ جو روایت آتی ہے وہ زیادہ قرین قیاس ہے۔اس کے معنے ہیں مجھے اتنا دبایا کہ میری طاقت اپنے انتہاء کو پہنچ گئی یعنی تاب مقابلہ نہ رہی۔(عمدۃ القاری جزء اول صفحہ ۵۷ ) اور یہ حالت خاص کر اُس وقت ہوتی ہے، جب انسان ملائکہ کی بات ماننے سے انکار کرتا ہے۔یعنی مشیت الہی کے مقابل بشری ارادہ کچھ نہ کچھ کام کر رہا ہوتا ہے۔ملائکہ کی اس قسم کی تحکمانہ تجلی خواب میں ہوتی ہے اور کشف میں بھی اور عین بیداری میں بھی۔ابن اسحاق نے حضرت عبد اللہ بن زبیر کی ایک روایت نقل کی ہے کہ یہ واقعہ نیند میں ہوا۔تاريخ الأمم والملوك ذكر الخبر عما كان من أمر نبي الله۔۔۔بارسال جبريل اليه بوحيه الجزء الثاني) شاید اس وجہ سے کہ غَطَّ، يَغِطِّ، غَطِبُا نیند میں خراٹے لینے کو بھی کہتے ہیں۔(لسان العرب تحت لفظ "غط ) یا کسی اور وجہ سے انہوں نے یہ کہا۔اور امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے رویت کا لفظ علی الاطلاق رکھا ہے جو کشف پر بھی بولا جاتا ہے اور خواب پر بھی۔بہر حال اس مخصوص تجلی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو گلے لگا کر زور سے بھینچا گیا۔اس نظارے کا تعلق واقعات کے ساتھ یہ ہے کہ آپ نے الہی مشیت کی زور دار تجلیات کے ماتحت بے بس ہو کر نبوت کا اعلان کیا تھا۔یہ نہیں کہ آپ نے اس کے لئے کوئی پہلے سے تیاری کی تھی۔آپ گوشہ تنہائی کو چھوڑنے کے لئے یونہی اپنی مرضی سے تیار نہیں ہوئے۔قرآن مجید نے بھی اس مضمون کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے: قُل لَّوْ شَاءَ اللهُ مَا تَلَوْتُهُ عَلَيْكُمْ وَلَا أَدْرِيكُمْ بِهِ ۖ فَقَدْ لَبِثْتُ فِيْكُمْ عُمُرًا مِنْ قَبْلِهِ ، أَفَلا تَعْقِلُونَ (یونس : (۱۷) کہو! اگر اللہ کی مشیت نہ ہوتی تو میں تمہارے سامنے یہ کبھی نہ پڑھتا اور وہ تمہیں اس کی خبر تک نہ دیتا۔چنانچہ میں تم میں اس سے پہلے بھی ایک لمبا عرصہ رہ چکا ہوں۔تم عقل سے کیوں کام نہیں لیتے۔ان آیات سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت کی زور دار تجلی نہ ہوتی تو آنحضرت ه قطعا منصب نبوت کے اٹھانے کے لئے تیار نہ تھے۔