صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page viii of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page viii

نور فاؤنڈیشن کا قیام: حال ہی میں حضرت مرزا مسرور احمد خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے علم حدیث کی ترویج اور اشاعت کے لئے حضرت حاجی الحرمین حکیم نور الدین خلیفة المسیح الاول رضی اللہ عنہ کے نام پر نور فاؤنڈیشن قائم فرمائی ہے بخاری کے اس ایڈیشن کی خصوصیات: اس ایڈیشن کی ا۔ موجودہ ایڈیشن میں پہلے طبع شدہ حصہ پر نظر ثانی حوالہ جات کی تصحیح و تکمیل کے علاوہ متن کے جن حصوں کا ترجمہ سہوا رہ گیا تھا ان کا ترجمہ دیا گیا ہے اور ترجمہ میں جو الفاظ تشریحی تھے انہیں بریکٹ میں کر دیا گیا ہے ۲۔ جن مقامات پر متن اور ترجمہ میں فرق دکھائی دیتا تھا ایسے مقامات کو صحیح بخاری کے مختلف نسخوں اور شروح سے موازنہ کر کے متن کے مطابق کر دیا گیا ہے۔ عالم اسلام میں موجودہ متداول نسخوں میں جس نسخہ کو ہم نے حضرت شاہ صاحب کے ترجمہ و شرح کے قریب تر پایا ہے وہ فتح الباری ( مطبوعہ دارالسلام الریاض ) کا متن اور میں فتح البار کے مختلف نسخوں کا فرق بھی درج کیا گیا ہے۔ اسی طرح بعض مقامات پر عمدۃ القارئ فتح الباری مطبوعه بولاق (۱۳۰۱ھ) فتح الباری مطبوعہ انصاریہ (۱۳۱۰ھ ) اور نسخہ سلطانیہ سے الفاظ کا تشخص کر کے حاشیہ میں دے دیا گیا ہے۔ ۳۔ حضرت شاہ صاحب نے دیباچہ (صفحہ ۱۷) میں بخاری کی احادیث کی تعداد کے بارے میں ابن حجر عسقلانی کی تحقیق کو قبول کیا ہے اور لکھا ہے کہ انہوں نے اپنے شمار میں نہایت ضبط سے کام لیا ہے اور ہر ایک قسم حدیث جدا جدا گئی ہے۔ لہذا حوالہ جات میں سہولت کے پیش نظر اس ایڈیشن میں احادیث اور ابواب پر فتح الباری کے مطابق نمبر لگائے گئے ہیں۔ نیز چونکہ ابن حجر عسقلانی نے ہر حدیث کو الگ الگ گنا ہے اس لئے بعض احادیث جو بظاہر ایک نظر آتی ہیں ان پر دو الگ الگ نمبر لگائے گئے ہیں۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ ایک ہی روایت دو صحابہؓ سے مروی ہے اور چونکہ ان کی یہ مرویات الگ الگ سندوں سے بھی بخاری میں دوسری جگہ آئی ہیں اس لئے امام ابن حجر نے ان کو دو احادیث کے طور پر شمار کیا ہے ( مثلاً حدیث نمبر ۴۰۹٬۴۰۸) علاوہ ازیں ایک روایت پر دو الگ الگ نمبر لگانے کی ایک صورت ایسی بھی ہے کہ جہاں سند دوبارہ نہیں ہے اور روایت درمیان سے نئے نمبر سے شروع ہوگئی ہے ( مثلاً حدیث نمبر ۵۳۷۵۳۶۔ اس میں راوی تو ایک ہی