صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 9 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 9

صحيح البخاری جلد ا ا - كتاب بدء الوحي بینائی میں آسمانی سورج کی روشنی سے نور پیدا ہوتا ہے۔وحی کے بغیر الحق یعنی کامل یقین ہرگز حاصل نہیں ہو سکتا۔( اس بحث کی تفصیل ملاحظہ ہو: براہین احمدیہ حصہ دوم حاشیہ نمبر ۴ صفحه ۷۸) اس جگہ الحق کی مناسبت کی وجہ سے یہ ذکر کر دینا بھی خالی از فائدہ نہ ہوگا کہ حضرت مسیح علیہ الصلواۃ والسلام نے یہ پیشگوئی کی تھی کہ جب وہ روح حق آئے گی تو ساری سچائی لائے گی۔( یوحنا۔باب ۱۶، آیت ۷ تا ۱۶) تیسری بات اس حدیث سے یہ معلوم ہوتی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تمام اغراض نفسانیہ سے الگ ہوکر محض اللہ تعالیٰ کی محبت کی وجہ سے یہ عبادت کیا کرتے تھے۔یہ خواہش قطعا نہ تھی کہ آپ کو وحی و مکاشفہ ہو یا نبوت کا مقام ملے اور نہ یہ مقام مجاہدات سے ملا کرتا ہے۔اس بات پر جیسا کہ حُبَ إِلَيْهِ الْخَلَاءُ کے الفاظ دلالت کرتے ہیں اور وہ الفاظ بھی نہایت وضاحت سے دلالت کرتے ہیں جو امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے کتاب التفسیر میں اور امام مسلم نے کتاب الایمان میں نقل کئے ہیں۔یعنی حَتَّی فَجِنهُ الْحَقُّ یعنی یکا یک بغیر توقع کے حق آپ کے پاس آیا۔(بخاری ، کتاب التفسير سورة إقرأ باسم ربك الذي خلق روایت نمبر ۴۹۵۴) صلى الله علم (مسلم، کتاب الايمان باب بدء الوحي إلى رسول الله )۔اس کے ہم معنی یہ الفاظ ہیں: أَتَاهُ بَغْتَةً۔(عمدة القاری جزء اول صفحه ۵۴) ایسے مجاہدات سے آپ کی پاک فطرت انکار کرتی تھی جو اس غرض سے ہوں کہ کوئی الہام ہو جائے یا کشف ہی دیکھ لے یا یہ کہ وحی و نبوت کا مقام حاصل ہو۔قرآن مجید بھی اسی امر کی طرف اشارہ فرماتا ہے: وَمَا كُنْتَ تَرْجُوا أَنْ يُلْقَى إِلَيْكَ الْكِتَابُ إِلَّا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ (القصص: ۸۷) یعنی تو یہ توقع نہ رکھتا تھا کہ کتاب تجھے دی جائے۔یہ تو تیرے رب کی رحمت ہوئی۔مَا أَنَا بِقَارِيَّ: اور وحی لانے والے فرشتے کو بھی آپ یہی جواب دیتے ہیں : مَا أَنَا بِقَارِئ میں ہرگز نہیں پڑھوں گا۔ما حرف نافیہ ”ب“ کے ساتھ قطعی انکار کے لئے آتا ہے۔جیسے قرآن مجید میں آتا ہے: وَمَا أَنَا بِطَارِدِ الَّذِينَ آمَنُوا۔(هود:۳۰) یعنی میں ہرگز اپنے مسلمان ساتھیوں کو دھتکارنے کا نہیں۔کلمات وحی کا مفہوم وہ شخص خوب سمجھتا ہے جس پر وحی نازل ہو رہی ہو۔افسر سے مراد اعلانِ رسالت ہے جس کی تشریح لفظ قرآن کر رہا ہے۔اس کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک لمحہ کے لئے بھی و ہم نہیں گذرا کہ یہ تجلی ربانی ہے یا کیا؟ انبیاء کی ابتدائی زندگی میں ہی ان تجلیات کا سلسلہ شروع ہو کر آہستہ آہستہ کمال تک پہنچتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کا خارق عادت معاملہ ہمیشہ سے دیکھتے چلے آتے ہیں۔ایک معمولی انسان جو کچی خواب دیکھتا ہے اس کو تو ایسے خواب کے متعلق یقین ہوتا ہے کہ یہ نظارہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی ہے نہ کسی خیال کا نتیجہ۔مگر یہ کہنا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو پڑھنے سے انکار کیا تو اس خیال سے کیا کہ آپ کو علم نہ تھا کہ یہ رحمانی وحی ہے ، یہ احمقانہ خیال ہے۔ورقہ بن نوفل جو عیسائی تھا اس نے تو سارا واقعہ سن کر بے ساختہ کہہ دیا کہ یہ تو وہی راز دار ہے جو حضرت موسیٰ پر نازل ہوا تھا۔مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جن پر یہ روحانی کیفیتیں گزرا کرتی تھیں وہ اس راز سے نا آشنا ہوں! یہ بات کس قدر دور از قیاس ہے اور علاوہ ازیں یہ تجلی ربانی پہلی بار نہ تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سمجھنے میں غلطی ہوتی یا کوئی شبہ پڑتا