صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 699 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 699

حيح البخاري - جلد ا ۶۹۹ ۹ - كتاب مواقيت الصلوة النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَصْبَحَتْ سے کھایا اور کہا: وہ قسم تو شیطان سے تھی۔پھر اس میں عِنْدَهُ وَكَانَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمٍ عَقْدٌ سے ایک لقمہ کھایا اور اس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فَمَضَى الْأَجَلُ فَفَرَّقْنَا اثْنَى عَشَرَ پاس اُٹھا کر لے گئے اور وہ (کھانا) آپ کے پاس رَجُلًا مَعَ كُلِّ رَجُلٍ مِّنْهُمْ أُنَاسٌ الله صبح تک رہا اور ہمارے اور ایک قوم کے درمیان معاہدہ تھا اور میعاد گزرگئی تھی تو ہم نے بارہ آدمیوں کو علیحدہ علیحدہ بٹھایا ہے اور ان میں سے ہر ایک آدمی کے ساتھ کچھ لوگ تھے۔اللہ بہتر جانتا ہے کہ ہر ایک کے ساتھ کتنے تھے تو سبھی نے اس میں سے کھایا۔ایسے ہی أَعْلَمُ كَمْ مَعَ كُلِّ رَجُلٍ فَأَكَلُوْا مِنْهَا أَجْمَعُوْنَ أَوْ كَمَا قَالَ۔اطراف افه ٣٥٨١، ٦١٤٠، ٦١٤١۔کچھ یا جیسے راوی نے بیان کیا۔امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے ایک تیسرا باب قائم کر کے سابقہ مسئلہ میں مزید وسعت پیدا کی ہے۔جس کا علیہ قا مزید کی تشریح : العلی بن امور کے ساتھ ہے۔علماء تعلق محض خانگی امور کے ساتھ ہے۔عشاء کے بعد بول چال منع ہونے کے یہ معنی نہیں کہ قطعاً کسی قسم کی گفتگو نہ کی جائے خواہ کیسی ضرورت پیش آجائے۔واقعہ مذکور میں اگر حضرت ابو بکر کھانے پینے کی اجازت نہ دیتے اور صرف اشاروں ہی اشاروں سے کام لیتے تو یہ واقعہ نہ صرف مضحکہ خیز منظر بن جاتا۔بلکہ مہمان اور بیوی بچے سب رات بھر بھوکے رہتے۔اس جگہ یہ روایت لا کر امام موصوف "مسئلہ مذکور کے بارے میں بعض فقہاء کا نقط نظر پیش کر کے عشاء کے بعد باتیں کرنے کے جواز اور اُس کے محل و موقع کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ مِنَ الشَّيْطَان : حضرت ابوبکر نے غصہ کی حالت میں قسم کھائی تھی کہ وہ نہیں کھائیں گے۔مگر عقصہ فرو ہونے پر اُن کو اپنی اس سختی پر افسوس آیا۔چونکہ حالت غصہ کی قسم لغو ہوتی ہے۔اس لئے انہوں نے اپنے غصہ اور لغو تم پر عمل نہ کیا۔شیطان کا لفظ شَطَنَ سے بھی مشتق ہو سکتا ہے اور شَيْط سے بھی یعنی دور نکل جانا اور حد اعتدال پر قائم نہ رہنا ( لسان العرب تحت لفظ شطن ) اور دوسرے اشتقاق کی رو سے اس کے معنے ہیں جلنے والا (لسان العرب تحت لفظ شیط) اور شیطان اسم جمع ہے جو ہر بے اعتدالی پر اطلاق پاتا ہے اور شیطان اس آدمی کو بھی کہتے ہیں جس کی طبعی حالتیں حد اعتدال پر نہ ہوں۔غصے کو بھی شیطان کہتے ہیں۔وَلِيَهُ شَيْطَانَهُ یعنی غَضِبَ غصے میں آ گیا۔(لسان العرب تحت لفظ شطن ،شیط) روایت نمبر ۶۰۲ میں شیطان سے غصہ ہی مراد ہے۔جو تم کھانے اور سخت الفاظ استعمال کرنے کا محرک ہوا۔حدیث میں آتا الْحَسَدُ شَيْطَانٌ وَالْغَضَبُ شَيْطَانٌ۔یعنی حد شیطان ہے اور غصہ شیطان ہے۔ہے۔لفظ فَفَرَّقْنَا عمدۃ القاری کے مطابق ہے۔(عمدۃ القاری جزء خامس صفحہ ۹۸) یہ ترجمہ اسی لفظ کا ہے۔