صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 700 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 700

صحيح البخاري - جلد ا ۹ - کتاب مواقيت الصلوة کھانا کھانے کا واقعہ جواد پر مروی ہے اس کے متعلق یقینی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ اس میں ویسی اعجازی صورت پائی جاتی ہے جیسی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے واقعات میں مفصل ذکر انشاء اللہ اپنے موقع پر آئے گا۔محولہ بالا روایت کے الفاظ میں اضطراب ہے۔مگر اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے لئے اپنے نفسوں میں خارق عادت تبدیلی پیدا کرتے ہیں اللہ تعالیٰ بھی ان کے لئے خارق عادت صفات کا اظہار فرماتا ہے۔جس کی کنہ تک مادہ پرست عقل نہیں پہنچ سکتی۔حضرت ابو بکر جیسے عظیم الشان انسان کے ساتھ ایسے غیر معمولی واقعہ کا پیش آنا کوئی تعجب انگیز بات نہیں۔وہ اپنے تقویٰ اور اخلاص کی برکت سے مقام صدیقیت پر فائز تھے۔رات کو اُن کا اپنے گھر سے دیر تک غائب ہوتا اس لئے تھا کہ مہمان تنہا آزادی سے سیر ہو کر کھا ئیں۔انہیں اندیشہ تھا کہ کھانا کم نہ ہو اور یہ امر بھی ان کے حسنِ اخلاق کا آئینہ دار ہے۔گھر والوں پر اُن کی ناراضگی کی وجہ بھی یہی تھی کہ تاکید کر گئے تھے کہ اُن کے لوٹنے سے پہلے مہمان کھانے سے فارغ کر دیئے جائیں۔مذکورہ بالا روایت کتاب المناقب باب علامات النبوۃ روایت نمبر ۳۵۸۱ میں بھی مذکور ہے۔دونوں روایتوں کے الفاظ میں اختلاف ہے۔خود اسی روایت میں راوی نے دو دفعہ بعض الفاظ سے متعلق شبہ کا اظہار کیا ہے۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ الفاظ محفوظ نہیں رکھے گئے۔اس لئے یہ بھی احتمال ہے کہ کھانے کا یہ بڑھنا اپنے اندر غیر معمولی صورت نہ رکھتا ہو کیونکہ عموماً دیکھا گیا ہے کہ مہمانوں کی خاطر حساس میزبان کو غیر معمولی تشویش ہوا کرتی ہے کہ کہیں کھانا کم نہ ہو۔خصوصاً جبکہ میزبان کی مالی حالت بھی ایسی ویسی ہو۔اس حالت تشویش میں کھانے کا جتنا بھی اندازہ ہوا کرتا ہے اس سے وہ تسلی نہیں پاتا اور اکثر ایسا ہوتا ہے کہ مہمان اپنی ضرورت کم و بیش پوری کر کے چلے جاتے ہیں اور بہت سا کھانا بیچ رہتا ہے۔اس کے بعد نفس طبعاً اپنے اندر ایک راحت و خوشی اور تعجب محسوس کرتا ہے اور اس نئے احساس کے تحت اس کا زاویہ نگاہ بھی تبدیل ہو جاتا ہے۔وہ کھانا جسے کچھ عرصہ پہلے تھوڑا دیکھتا ہے بہت نظر آنے لگتا ہے اور بعض وقت گھر والوں کو برا بھلا بھی کہنا شروع کر دیتا ہے کہ کھانا اتنا ضائع کر دیا۔یہ واقعات ہم ہمیشہ مشاہدہ کرتے ہیں اور ان میں کھانے کی قلت و کثرت کا احساس محض ذہنی تاثرات کے نتیجے میں ہوتا ہے۔چونکہ راوی کے الفاظ میں اضطراب ہے اس لئے یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مذکورہ بالا واقعہ بھی اسی قسم کا ہو۔سلسلہ سند کے اعتبار سے روایت کی صحت میں کوئی شبہ نہیں اور یہ اُس غرض کو خوبی سے پورا کرتی ہے جس کے لئے باب مذکور کے ضمن میں اس سے استدلال کیا گیا ہے۔اس کے اعجازی پہلو سے متعلق کتاب المناقب باب علامات النبوة میں مزید تشریح کی جائے گی۔ان شاء اللہ تعالی۔ارگاه در که در گاه در که در که در یکی در ترکیه