صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 698 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 698

صحيح البخاري - جلد ا ۶۹۸ ۹ - کتاب مواقيت الصلوة الْعِشَاءُ ثُمَّ رَجَعَ فَلَبِثَ حَتَّى تَعَشَّی گئے اور وہاں ٹھہرے رہے یہاں تک کہ نبی صلی اللہ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ علیہ وسلم نے عشاء کا کھانا کھایا۔ پھر جتنی دیر کہ اللہ نے بَعْدَ مَا مَضَى مِنَ اللَّيْلِ مَا شَاءَ الله چاہا کچھ رات گزرنے کے بعد وہ آئے۔ اُن کی بی بی قَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ وَمَا حَبَسَكَ عَنْ نے اُن سے کہا: آپ کو کس نے اپنے مہمانوں سے یا أَضْيَافِكَ أَوْ قَالَتْ ضَيْفِكَ قَالَ أَوَمَا کہا: اپنے مہمان سے رو۔ سے روکے رکھا؟ انہوں نے جواب عَشَيْتِيْهِمْ قَالَتْ أَبَرًا حَتَّى تَجِيْءَ قَد دیا: کیاتم نے نہیں کھانا نہں کھلایا؟ انہوں نے کہا: مہمانوں نے آپ کے آنے تک (کھانا کھانے سے ) عُرِضُوا فَأَبَوْا قَالَ فَذَهَبْتُ أَنَا انکار کر دیا۔ ان کے سامنے کھانا تو پیش کیا گیا تھا مگر فَاخْتَبَأْتُ فَقَالَ يَا غُنْثَرُ فَجَدَّعَ انہوں نے انکار کر دیا۔ حضرت عبدالرحمن نے کہا: میں وَسَبَّ وَقَالَ كُلُوْا لَا هَنِيئًا فَقَالَ وَاللهِ چلا گیا اور چھپ گیا۔ یہ سن کر کہنے لگے: ارے لَا أَطْعَمُهُ أَبَدًا وَ أَيْمُ اللَّهِ مَا كُنَّا نَأْخُذُ بیوقوف نکئے! اور اسی طرح برا بھلا کہا۔ اور مِنْ لُقْمَةٍ إِلَّا رَبَا مِنْ أَسْفَلِهَا أَكْثَرُ (گھر والوں سے) کہا: کھاؤ تمہیں ہضم نہ ہو اور مِنْهَا قَالَ يَعْنِي حَتَّى شَبِعُوْا وَصَارَتْ حضرت ابوبکر نے کہا: الہ کی قسم میں ہر گز نہیں کھاؤں أَكْثَرَ مِمَّا كَانَتْ قَبْلَ ذَلِكَ فَنَظَرَ گا۔ (حضرت عبد الرحمن کہتے تھے :) تھے: اللہ کی قسم ہم لقمہ إِلَيْهَا أَبُو بَكْرٍ فَإِذَا هِيَ كَمَا هِيَ أَوْ بھی لیتے تھے تو اس کے نیچے سے اس سے بھی زیادہ بڑھ جاتا۔ کہتے تھے: سب سیر ہو گے اور وہ کھانا پہلے أَكْثَرُ مِنْهَا فَقَالَ لِامْرَأَتِهِ يَا أُخْتَ بَنِي فِرَاسٍ مَا هَذَا قَالَتْ لَا وَقُرَّةِ عَيْنِي و کیا دیکھتے ہیں کہ ویسے کا ویسا ہی ہے یا اس سے بھی لَهِيَ الْآنَ أَكْثَرُ مِنْهَا قَبْلَ ذَلِكَ بِثَلَاثِ زیادہ تو انہوں نے اپنی بی بی سے کہا: بنی فراس کی مَرَّاتٍ فَأَكَلَ مِنْهَا أَبُو بَكْرٍ وَقَالَ إِنَّمَا ہن ! یہ کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ قسم ہے مجھے كَانَ ذَلِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ يَعْنِي يَمِينَهُ اپنی آنکھوں کی ٹھنڈک کی کہ وہ (کھانا) پہلے کی ثُمَّ أَكَلَ مِنْهَا لُقْمَةً ثُمَّ حَمَلَهَا إِلَى نسبت تین گنا زیادہ ہے۔ تب حضرت ابو بکر نے اس عمدۃ القاری میں اس جگہ عَشَّيْتِهِمُ کا لفظ ہے۔ (عمدۃ القاری جزء خامس صفحہ ۹۸) یہ ترجمہ اسی لفظ کا ہے۔ جبکہ لفظ عَشَّيْتِيهِمُ میں حرف ی حرف ت کی زیر پڑھنے میں سہولت کی خاطر ہے۔ (عمدۃ القاری جزء خامس صفحہ ۹۹) ☆ سے بھی زیادہ ہو گیا۔ حضرت ابو بکر نے جو اس کو دیکھا