صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 697
حيح البخاري - جلد ا ۹ - كتاب مواقيت الصلوة عشاء کے بعد باتیں کرنے کی جو مثال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے واقعات زندگی سے دی گئی ہے اُس میں اس بات کی صراحت ہے کہ عشاء کی نماز کے بعد آپ نے گفتگو کی۔جس کا مفہوم بعد میں یہ سمجھ لیا گیا کہ تمام زمین پر یہ قیامت برپا ہو جائے گی۔حضرت عبداللہ بن عمر یہ خیال رو کر رہے ہیں کہ اس سے مراد قیامت نہیں بلکہ موجود نسل کا خاتمہ ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ نظارہ کشفی طور پر دکھایا گیا تھا۔حضرت ابوالطفيل عامر بن واثلہ آخری صحابی تھے جو شاھ میں فوت ہوئے۔(فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۹۹) بعض شارحین نے حضرت عیسیٰ اور خضر علیہما السلام کے فوت ہونے کا استدلال مذکورہ بالا حدیث سے کیا ہے (فتح الباری جزء ثانی صفحه ۹۹) مگر یہ قصہ کہ وہ اس زمانہ تک زندہ تھے بے بنیاد ہے۔لہذا ان کا یہ استدلال بھی ساقط الاعتبار ہے۔باب ٤١ : السَّمَرُ مَعَ الضَّيْفِ وَالْأَهْلِ مہمان اور بیوی بچوں کے ساتھ رات کو بات چیت کرنا عِنْدَهُ طَعَامُ اثْنَيْنِ فَلْيَذْهَبْ بِثَالِثٍ ٦٠٢ حَدَّثَنَا أَبُو الْنُّعْمَانِ قَالَ :۶۰۲ ابو نعمان نے ہم سے بیان کیا، کہا: معتمر بن حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ حَدَّثَنَا سلیمان نے ہمیں بتایا۔کہا: میرے باپ نے ہم سے أَبِي حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ عَنْ عَبْدِ بیان کیا کہ ابو عثمان نے حضرت عبد الرحمن بن ابی بکرے الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ أَنَّ أَصْحَابَ سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا کہ اصحاب الصفہ الصُّفَّةِ كَانُوْا أُنَاسًا فُقَرَاءَ وَأَنَّ النَّبِيَّ محتاج لوگ تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ كَانَ کے پاس دو کا کھانا ہو، وہ تیسرے کو (اپنے ساتھ ) لے جائے۔اگر چار کا ہو تو پانچویں یا کہا: چھٹے کو لے جائے ) اور حضرت ابوبکر تین کو لائے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم وس کو لے گئے۔حضرت عبدالرحمن نے کہا: میں اور میرا باپ اور میری ماں تھیں۔مجھے یاد نہیں کہ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَشَرَةٍ قَالَ فَهُوَ أَنَا انہوں نے کہا: اور میری بی بی اور ایک نوکر جو ہمارے وَأَبِي وَأُمِّي فَلَا أَدْرِي قَالَ وَامْرَأَتِي اور حضرت ابوبکر کے گھر کے درمیان مشترک تھا اور وَخَادِمٌ بَيْنَنَا وَبَيْنَ بَيْتِ أَبِي بَكْرٍ وَإِنَّ حضرت ابوبکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رات کا أَبَا بَكْرٍ تَعَشَّى عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى الله کھانا کھا چکے تھے اور پھر وہیں ٹھہرے رہے یہاں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ لَبِثَ حَيْثُ صُلَیتِ تک کہ عشاء کی نماز پڑھی گئی۔اس کے بعد وہ لوٹ وَإِنْ أَرْبَعٌ فَخَامِسٌ أَوْ سَادِسٌ وَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ جَاءَ بِثَلَاثَةٍ فَانْطَلَقَ النَّبِيُّ صَلَّى