صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 696
صحيح البخاري - جلد ا ٦٩٦ ۹ - كتاب مواقيت الصلوة عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَا يَتَحَدَّثُوْنَ مِنْ هَذِهِ سال سے متعلق مروی ہیں۔ حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ الْأَحَادِيثِ عَنْ مَائَةِ سَنَةٍ وَإِنَّمَا قَالَ وَسلم نے تو صرف یہی فرمایا تھا: آج جو لوگ سطح زمین النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَبْقَى پر ہیں ان میں سے کوئی باقی نہیں رہے گا۔ اس سے مِمَّنْ هُوَ الْيَوْمَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ آپ کی یہ مراد تھی کہ یہ صدی اس زمانہ کے لوگوں کو ختم يُرِيدُ بِذَلِكَ أَنَّهَا تَخْرِمُ ذَلِكَ الْقَرْنَ کردے گی۔ اطرافه: ١١٦، ٥٦٤ ریح : اسلام جس کی تعلیم اعتدال پر قائم ہے ہر م میں میانہ روی اور ضرورت حق ملحوظ رکھنے کی تلقین کرتا ہے۔ اس باب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے دو واقعات پیش کر کے یہ بتایا گیا ہے کہ عشاء کے بعد بات چیت کرنے کی ممانعت کے معنے وہی ہیں جس کی طرف قرآن مجید کی آیت سَامِرًا تَهْجُرُونَ (المؤمنون: ۲۸) اشارہ کرتی ہے۔ ورنہ بھلائی کی باتوں سے منع نہیں کیا گیا ہے۔ گذشتہ باب کا عنوان مَا يُكْرَهُ مِنَ السَّمَرِ بَعْدَ الْعِشَاءِ ضمنا اسی جواز پر دلالت کرتا ہے۔ حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ ایک جلیل القدر فقیہہ ہیں ۔ ان کی عادت تھی کہ رات کو مسجد میں بیٹھ جاتے اور لوگ ان سے علمی استفادہ کرتے ۔ ایک رات پڑوسیوں کی خدمت میں مشغول تھے انہیں دیر ہوگئی اور شاگرد انتظار میں رہے۔ اس موقع پر انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس واقعہ کا حوالہ دیا جس کا ذکر روایت نمبر ۵۶۷ میں گزر چکا ہے۔ اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک فوج کی تیاری میں مشغول تھے اور آپؐ نے نماز میں دیر کر دی۔ مگر ترمذی کی ایک مستند روایت سے جو حضرت عمرؓ سے مروی ہے معلوم ہوتا ہے کہ آپ مسلمانوں کے دینی یا سیاسی امور سے متعلق رات کو حضرت ابوبکر اور حضرت عمر جیسے اہل الرائے صحابہ کرام کے ساتھ باتیں کیا کرتے تھے۔ روایت کے الفاظ یہ ہیں :- عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْمُرُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ فِي الْأَمْرِ مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ وَأَنَا مَعَهُمَا۔ (ترمذى۔ كتاب الصلاة باب ما جاء في الرخصة في السمر بعد العشاء) صلى الله إِنَّ الْقَوْمَ لَا يَزَالُونَ بِخَيْرٍ مَّا انْتَظَرُوا الْخَيْرَ : به نهایت حکیمانہ قول ہے جس سے حسن بصری رحمۃاللہ علیہ نے ایک طرف نبی ﷺ کا اصل مقصد ایک سنہری اصل کی روشنی میں وا روشنی میں واضح کیا ہے اور دوسری طرف اپنے شاگردوں کو تسلی دی ہے کہ کوئی حرج نہیں جو تمہیں آج کا درس نصیب نہیں ہوا۔ یہ انتظار بھی تمہارے لئے بھلائی کا موجب ہوگا۔ بھلائی کا میلان جب تک کسی قوم میں موجود رہتا ہے اس کا رجحان بھلائی ہی کی طرف رہتا ہے اور جب قوم میں درس و تدریس اور نیک مشاغل ہے بے رغبتی پیدا ہو جاتی ہے تو پھر اس کا منہ صراط مستقیم سے پھر جاتا ہے اور قدم اُلٹی راہ پر پڑتا ہے۔ فَإِنَّ رَأْسَ مِائَةٍ لَّا يَبْقَى مِمَّنْ هُوَ الْيَوْمَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ أَحَدٌ: روایت نمبر ۲۰۱ میں 2