صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 695 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 695

صحيح البخاری جلد ا ۶۹۵ ۹ - كتاب مواقيت الصلوة صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ حَتَّى پڑوسیوں نے بلایا تھا۔پھر کہا: حضرت انس کہتے تھے: كَانَ شَطْرُ اللَّيْلِ يَبْلُغُهُ فَجَاءَ فَصَلَّی ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک رات اتنا انتظار کیا لَنَا ثُمَّ خَطَبَنَا فَقَالَ أَلَا إِنَّ النَّاسَ قَدْ کہ آپ کو آدھی رات ہو گئی تب آپ آئے اور صَلَّوْا ثُمَّ رَقَدُوا وَ إِنَّكُمْ لَمْ تَزَالُوْا فِي ہمیں نماز پڑھائی۔پھر ہم سے مخاطب ہوئے اور صَلَاةٍ مَّا انْتَظَرْتُمُ الصَّلَاةَ قَالَ فرمایا: دیکھو لوگ نماز پڑھ کر سو گئے اور تم نماز ہی میں الْحَسَنُ وَإِنَّ الْقَوْمَ لَا يَزَالُوْنَ بِخَيْرٍ رہے ہو جب تک کہ تم نے نماز کا انتظار کیا ہے۔حسن مَّا انْتَظَرُوا الْخَيْرَ قَالَ قُرَّةُ هُوَ مِنْ نے کہا: لوگ ہمیشہ بھلائی میں ہی رہتے ہیں جب تک حَدِيثِ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله وہ بھلائی کا انتظار کرتے رہیں۔قرہ نے کہا: یہ حضرت ان کی بات ہے جو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔اطرافه: ٥٧٢، 661، 847، 5869۔سے روایت کرتے ہوئے بیان کی تھی۔٦٠١: حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ ۶۰۱: ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا، کہا: شعیب نے أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِي قَالَ ہمیں بتایا کہ زہری سے مروی ہے۔انہوں نے کہا: حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ سالم بن عبداللہ بن عمر اور ابوبکر بن ابی حشمہ نے مجھے وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي حَثْمَةَ أَنَّ عَبْدَ اللهِ سے بیان کیا کہ حضرت عبداللہ بن عمر نے کہا: نبی صلی ابْنَ عُمَرَ قَالَ صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى الله الله علیہ وسلم نے عشاء کی نماز اپنی آخری زندگی میں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعِشَاءِ فِي آخِرِ پڑھی۔جب آپ نے سلام پھیرا تو آپ اُٹھے اور حَيَاتِهِ فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى الله فرمایا: کیا تم نے اپنی اس رات پر غور کیا ہے؟ صدی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَرَأَيْتَكُمْ لَيْلَتَكُمْ کے آخر تک ان میں سے جو آج سطح زمین پر ہیں هَذِهِ فَإِنَّ رَأْسَ مِائَةٍ لَّا يَبْقَى مِمَّنْ هُوَ ایک بھی باقی نہیں رہے گا تو لوگوں نے رسول اللہ صلی الْيَوْمَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ أَحَدٌ فَوَهِلَ اللہ علیہ وسلم کی بات کچھ کی کچھ سمجھ لی۔یعنی وہی باتیں النَّاسُ فِي مَقَالَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ جو ان حدیثوں کے بارہ میں وہ کیا کرتے ہیں جو سو