صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 694
صحيح البخاري - جلد ا ۶۹۴ ۹ - كتاب مواقيت الصلوة صَلَاةِ الْغَدَاةِ حِيْنَ يَعْرِفُ أَحَدُنَا ایسے وقت میں فارغ ہو کر پھرتے کہ ہم میں سے جَلِيسَهُ وَيَقْرَأُ مِنَ السِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ۔ ایک اپنے ساتھی کو پہچان لیتا اور آپ ساٹھ سے سو اطرافه: ٥٤١، ٥٤٧، ٥٦٨، 771۔ آیتیں پڑھا کرتے تھے۔ تشریح: عنوان باب میں لفظ سمر کے لغوی معنی بتاتے ہوئے آیت سَامِرًا تَهْجُرُونَ (المؤمنون :۶۸) کی طرف اشارہ کیا ہے۔ جس کا مفہوم یہ ہے کہ رات کے وقت تم بکواس کرتے رہتے ہو۔ آج کل بھی عربی ممالک میں رات کو دیر تک اکٹھے بیٹھ کر باتیں کرنے کا رواج عام ہے۔ جسے سورہ کہتے ہیں۔ (لسان العرب تحت لفظ سهر ) اس سهره کی وجہ سے اُن کی راتیں گوناگوں دلچسپیوں اور عیش پرستیوں کا تماشا گاہ بن جاتی ہیں اور یا لیل کی سرین ایک معنی کی زبان سے عام حاضرین کو وجد ورقص میں لاکر عالم محویت کا نمونہ دکھاتی ہیں۔ اُن کی راتیں الف لیلی کے قصوں اور کہانیوں کی زندہ یادگاریں ہیں۔ رات کی یہ رنگینیاں قدیم زمانہ سے چلی آتی ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک فطرت نے اُن کو نفرت کی نگاہ سے دیکھا اور مسلمانوں کو اس سے منع کر دیا اور ایک مدت مدید تک وہ آپ کے اس حکم کی تعمیل کرتے رہے۔ مگر مرور زمانہ کے ساتھ طبیعت دیرینہ نے پھر عود کیا اور یورپ کی اندھا دھند تقلید نے اُن کی اس طبیعت پر کچھ اور رنگ چڑھا دیا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ تہجد اور صبح کی نمازیں تو الگ رہیں خود عشاء کی نماز بھی اُن لوگوں کو پڑھنے کی توفیق نہیں ملتی جنہیں تھوڑا بہت تعلق دین سے ہے۔ اسلام ہر کام میں پابندی اوقات کی تاکید کرتا ہے اور نماز عشاء کے بعد بے کا ربات کی ناپسندیدگی بھی اس تاکید کی ایک مثال ہے۔ اس تعلق میں کتاب العلم باب ۴۱: السمر بالعلم بھی دیکھئے۔ بَاب ٤٠ : السَّمَرُ فِي الْفِقْهِ وَالْخَيْرِ بَعْدَ الْعِشَاءِ عشاء کے بعد دینی علم اور نیک کاموں سے متعلق بات چیت کرنا ٦٠٠ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّبَّاحِ ۶۰۰: عبدالله بن صباح نے ہم سے بیان کیا، کہا: قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَلِي الْحَنَفِيُّ حَدَّثَنَا ابو علی حنفی نے ہمیں بتایا۔ قرہ بن خالد نے ہم سے قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ انْتَظَرْنَا الْحَسَنَ وَ بیان کیا، کہا: ہم نے حسن (بصری) کا انتظار کیا اور رَاثَ عَلَيْنَا حَتَّى قَرُبْنَا مِنْ وَقْتِ انہوں نے ہمارے پاس آنے میں دیر کر دی۔ یہاں قِيَامِهِ فَجَاءَ فَقَالَ دَعَانَا جِيْرَانُنَا تک کہ وہ وقت آگیا جب وہ اٹھ کر (گھر) جایا هَؤُلَاءِ ثُمَّ قَالَ قَالَ أَنَسٌ نَظَرْنَا النَّبِيَّ کرتے تھے۔ تب وہ آئے اور کہا: ہمیں ہمارے ان