صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 693
صحيح البخاري - جلد ا ۶۹۳ ۹ - كتاب مواقيت الصلوة بَاب ٣٩: مَا يُكْرَهُ مِنَ السَّمَرِ بَعْدَ الْعِشَاءِ عشاء کے بعد بات چیت نا پسندیدہ ہے السَّامِرُ مِنَ السَّمَرِ وَ الْجَمِيْعُ { سَامِر سَمر سے ہے اور اس کی جمع سُمار ہے السُّمَّارُ وَالسَّامِرُ هَاهُنَا فِي مَوْضِع اور سامر یہاں جمع کی جگہ ہے اور سمر وہ رنگ الْجَمْعِ وَأَصْلُ السَّمَرِ ضَوْءُ لَوْنِ ہے جو چاند کی روشنی کا ہوتا ہے۔چاندنی رات میں وہ الْقَمَرِ وَكَانُوْا يَتَحَدَّثُوْنَ فِيْهِ۔* باتیں کیا کرتے تھے۔} ٥٩٩: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا ۵۹۹ : مسدد نے ہم سے بیان کیا، کہا بھئی نے ہمیں يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا عَوْفٌ قَالَ حَدَّثَنَا بتایا۔کہا: عوف نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابو منہال أَبُو الْمِنْهَالِ قَالَ انْطَلَقْتُ مَعَ أَبِي إِلَى نے ہم سے بیان کیا، کہا: میں اپنے باپ کے ساتھ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيَ فَقَالَ لَهُ أَبِي حَدِثْنَا حضرت ابو برزہ اسلمی کے پاس گیا تو میرے باپ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نے اُن سے کہا: ہمیں بتائیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وَسَلَّمَ يُصَلّي الْمَكْتُوْبَةَ قَالَ كَانَ و سلم فرض نماز کب پڑھا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: يُصَلِّي الْهَجِيْرَ وَهِيَ الَّتِي تَدْعُوْنَهَا دوپہر کی نماز آپ اس وقت پڑھتے جب سورج ڈھل الْأَوْلَى حِيْنَ تَلْحَضُ الشَّمْسُ جاتا اور اسی کو پیشیں کہتے ہو اور عصر کی نماز ایسے وقت وَيُصَلِّي الْعَصْرَ ثُمَّ يَرْجِعُ أَحَدُنَا إِلَى میں پڑھتے کہ ہم میں سے ایک شہر کے انتہائی سرے أَهْلِهِ فِي أَقْصَى الْمَدِينَةِ وَالشَّمْسُ پر اپنے بیوی بچوں کے پاس واپس جاتا اور سورج حَيَّةٌ وَنَسِيْتُ مَا قَالَ فِي الْمَغْرِبِ قَالَ ابھی روشن ہوتا اور جو مغرب کے متعلق کہا تھا میں وَكَانَ يَسْتَحِبُّ أَنْ يُؤَخِّرَ الْعِشَاءَ بھول گیا۔انہوں نے کہا: آپ عشاء کی نماز میں قَالَ وَكَانَ يَكْرَهُ النَّوْمَ قَبْلَهَا تاخیر پسند فرماتے۔کہا: اور اس سے پہلے سونا اور اس وَالْحَدِيثَ بَعْدَهَا وَكَانَ يَنْفَتِلُ مِنْ کے بعد باتیں کرنا نا پسند فرماتے اور صبح کی نماز سے یہ عبارت فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہے۔(دیکھئے فتح الباری جزء ثانی حاشیہ صفحہ ۹۶)