صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 692 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 692

صحيح البخاري - جلد ا ۶۹۲ ۹ - كتاب مواقيت الصلوة باب ۳۸: قَضَاءُ الصَّلَوَاتِ الْأَوْلَى فَالْأُوْلَى ( ضائع شده) نمازیں ادا کرنا۔ پہلے پہلی ادا کرے ٥٩٨ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا ۵۹۸: مسدد نے ہم سے بیان کیا، کہا: چچی نے يَحْيَى عَنْ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام سے روایت کی۔ کہا: هُوَ ابْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ کي نے جو کہ ابو کثیر کے بیٹے ہیں ہم سے بیان کیا، رغم جَابِرٍ قَالَ جَعَلَ عُمَرُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ کہا: انہوں نے ابوسلمہ سے، ابوسلمہ نے حضرت جابر يَسُبُّ كُفَّارَهُمْ وَقَالَ مَا كِرْتُ سے روایت کی ۔ انہوں نے کہا: حضرت عمر خندق کے أُصَلِّي الْعَصْرَ حَتَّى غَرَبَتْ قَالَ دن ان کافروں کو برا بھلا کہنے لگے اور کہا: مجھے عصر کی نماز نہیں ملی یہاں تک کہ (سورج ) غروب ہو گیا۔ فَنَزَلْنَا بُطْحَانَ فَصَلَّى بَعْدَ مَا غَرَبَتِ کہتے تھے : اس پر ہم بطحان میں اُتر کر گئے اور انہوں الشَّمْسُ ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ۔ نے سورج غروب ہونے کے بعد نماز پڑھی۔ پھر اطرافه: ٥٩٦، 641، 945، ٤١١٢۔ انہوں نے مغرب کی نماز پڑھی۔ تشریح : اگر ایک سے زیادہ نمازمیں روائی ہوں تو پھران کو ترتیب سے ادا کرے۔ بھولی ہوئی یا مجبوری کی وجہ سے رہی ہوئی نمازوں کا و کا وقت وہی ہے جب وہ یاد آئیں یا ان کے پڑھنے کی توفیق ملے۔ اس وقت ان کو تر ترتیب سے پڑھے جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھیں۔ امام ابو حنیفہ کے نزدیک پانچ سے زیادہ نمازیں رہ گئی ہوں تو ترتیب ضروری نہیں اور اس سے کم میں ضروری ہے۔ بشرطیکہ نسیان کی وجہ ناکی وجہ سے نہ رہا رہ گئی ہوں یا موجودہ نماز کا وقت اس کے لئے یام تنگ نہ ہو۔ ورنہ موجودہ نماز پہلے ادا کرے۔ بداية المجتهد كتاب الصلاة الجملة الرابعة ۔ الباب الثانى فى القضاء ۔ شروط القضاء ووقته) امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے عنوانِ باب میں پانچ کی حد مقرر نہیں کی اور نہ اس مسئلہ پر باعتبار اس نماز کے کوئی رائے ظاہر کی ہے جس کا وقت ہے۔