صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 691
صحيح البخاري - جلد ا ۶۹۱ ۹ - كتاب مواقيت الصلوة حَدَّثَنَا أَنَسٌ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کیا کہ قتادہ نے ہمیں بتایا کہ حضرت انس نے نبی وَسَلَّمَ نَحْوَهُ۔ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے اسی طرح ہمیں بتایا تھا۔ کیا ہے ۔ ایک مشہور تشریح: ضائع شدہ نماز کا مسلہ بھی ان مسائل میں سے ہے ؟ ہے۔ جن میں فقہاء نے اختلاف کیا ہے ۔ اختلاف یہ ہے کہ آیا عمداً ترک کرنے والا بھی بھولنے والے کی طرح ترک شدہ نماز پڑھ سکا ہ نماز پڑھ سکتا ہے یا قضاء صلوٰۃ کا مسئلہ صرف معذور انسان کے لئے مخصوص ہے۔ یہاں عنوان باب میں ناسی یعنی بھولنے والے کی تخصیص کر کے عامد یعنی عمداً ترک کرنے والے کو نظر انداز کر دیا ہے۔ اس سے پہلے باب میں حالات بے بسی و مجبوری کی مثالیں گزرچکی ہیں۔ یعنی نیند کی حالت اور جنگ کی حالت ۔ یہاں صرف ترک نسیان اور ترک عمد کا سوال ہے۔ نسیان کی وجہ سے شریعت نے بھولنے والے کے ساتھ ایک رعایت برتی ہے۔ جس کا عمداً ترک کرنے والا مستحق نہیں ۔ اس سے قضاء عمری کی بدعت رڈ ہوتی ہے جو ترک عمل کا ایک بہانہ ہے۔ دوسرا اختلاف وہ ہے جو اس سوال سے پیدا ہوتا ہے کہ آیا ادا شدہ نمازوں کے ساتھ قابل ادا نمازوں کی ترتیب کا لحاظ رکھا جائے یا نہ۔ مثلاً عصر کی نماز پڑھنے پر ظہر کی نما ز یاد آ گئی تو کیا وہ ظہر ہی پڑھے یا اس کے بعد عصر کی نماز بھی دہرائے ۔ امام مالک کے نزدیک ترتیب ضروری ہے۔ اس لئے پڑھی ہوئی نماز کا اعادہ بھی ضروری ہے۔ امام ابوحنیفہ، امام ثوری اور امام شافعی بھولنے والے کے لئے ترتیب ضروری قرار نہیں دیتے ۔ امام بخاری نے بھی یہی مذہب اختیار کیا ہے۔ وَلَا يُعِيدُ إِلَّا تِلْكَ الصَّلاةَ اور روایت نمبر ۵۹۷ کو مستند و صحیح قرار دے کر وہ ضعیف روائیتیں نظر انداز کر دی ہیں۔ جن میں اعادہ صلوٰۃ کا ذکر آتا ہے۔ تفصیل کے لئے دیکھئے:۔ بداية المجتهد كتاب الصلاة الجملة الرابعة الباب الثاني في القضاء) (فتح الباری جزء ثانی صفحه ۹۳-۹۵) (عمدة القارى جزء خامس صفحه ۹۲-۹۴) مَنْ تَرَكَ صَلوةَ وَاحِدَةً عِشْرِينَ سَنَةً لَّمْ يُعِدُ إِلَّا تِلْكَ الصَّلوةَ الْوَاحِدَةَ: عنوان باب میں ابراہیم نخعی کا حوالہ اسی مذہب کی تائید میں پیش کیا ہے۔ عِشْرِينَ سَنَةً بطور مبالغہ کہا ہے۔ یعنی میں سال کے بعد بھی اگر یاد آ جائے تو اس پر کوئی کفارہ عائد نہیں ہوتا ، سوائے اس کے کہ وہی نماز پڑھی جائے۔ خود ثوری نے اپنی جامع میں یہ حوالہ نقل کیا ہے۔ اس سے ان لوگوں کا رد بھی مقصود ہے جو ایک ضعیف روایت کی بناء پر کہتے ہیں کہ ضائع شدہ نماز یاد آنے پر پڑھ لینے کے باوجود دوسرے دن جب ا جب اس کا وقت آئے تو اس کو دوبارہ پڑھے۔ ( فتح الباری جزء ثانی صفحه ۹۴) بعض نے کفارہ کے لفظ سے دھو کہ کھا کر نسی کے معنوں میں ترک عمد کو بھی شامل رکھا ہے۔ مگر کفارہ صرف عمداً گناہ کرنے ہی کا نہیں ہوا کرتا خطا کا بھی ہوتا ہے، جیسا کہ اس آیت میں: وَمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَأً فَتَحْرِيرُ رقبة ۔۔۔ (النساء: ۹۳) { اور جو کوئی غلطی سے کسی مومن کو قتل کرے تو ایک مومن غلام کا آزاد کرنا ہے۔۔۔۔ جو لوگ نماز عمداً ترک کرتے ہیں ان کے لئے احکام شریعت الگ ہیں۔ قرآن مجید کی آیت أَقِمِ الصَّلوةَ لِذِكْرِى (طه: ۱۵) کا حوالہ بھی اسی غرض سے دیا گیا ہے کہ جب یاد آئے نماز پڑھ لی جائے۔