صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 690 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 690

حيح البخاري - جلد ا تشریح ۶۹۰ ۹ - كتاب مواقيت الصلوة اس عنوان سے مراد گذشته فوت شدہ نمازیں نہیں بلکہ وہ ہیں جو بھول سے یا کسی مجبوری کی وجہ سے رہ جائیں اور پھر وقت کے بعد جلدی ہی پڑھ لی جائیں۔جیسا کہ اگلے باب میں اس کی صراحت ہے۔يَوْمَ الْخَنُدَقِ کی تفصیل کتاب المغازی باب غزوة الخندق میں آئے گی۔مَا كِدْتُ أُصَلَّى الْعَصْرَ حَتَّى كَادَتِ الشَّمْسُ تَغُرُبُ کے الفاظ سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے سورج غروب ہونے سے پہلے نماز پڑھ لی تھی۔نماز باجماعت پڑھانے کا استدلال ان الفاظ سے کیا گیا ہے: فَقُمْنَا إِلَى يُطْحَانَ فَتَوَضَّأَ لِلصَّلوةِ وَتَوَضَّأْنَا لَهَا فَصَلَّى الْعَصْرَ۔وضو، قیام اور دونوں نمازیں پڑھنے میں سب شریک تھے۔جو جماعت پر دلالت کرتا ہے۔بُطْحَانَ مدینہ کی ایک وادی کا نام ہے۔(فتح الباری جزء ثانی صفحه ۹۲ ) بَابِ ۳۷ : مَنْ نَسِيَ صَلَاةً فَلْيُصَلِّ إِذَا ذَكَرَهَا وَلَا يُعِيْدُ إِلَّا تِلْكَ الصَّلَاةَ جو شخص کوئی نماز بھول جائے تو چاہیے کہ وہ جب اُسے یاد آئے پڑھ لے اور صرف وہی نماز دُہرائے وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ مَنْ تَرَكَ صَلَاةً وَّاحِدَةً اور ابراہیم نخعی ) نے کہا: جس نے ایک ہی نماز ہیں عِشْرِيْنَ سَنَةً لَّمْ يُعِدُ إِلَّا تِلْكَ الصَّلَاةَ سال تک نہیں پڑھی تو وہ صرف وہی ایک نماز دہرائے۔الْوَاحِدَةَ۔٥٩٧: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ وَمُوْسَی ۵۹۷ : ابوکیم اور موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان ابْنُ إِسْمَاعِيْلَ قَالَا حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ کیا۔دونوں نے کہا: ہمام نے ہمیں بتایا۔انہوں نے قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله قادہ سے ، قتادہ نے حضرت انس سے، حضرت انس عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ نَسِيَ صَلَاةَ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فَلْيُصَلَّ إِذَا ذَكَرَهَا لَا كَفَّارَةَ لَهَا إِلَّا فرمایا: جو ایک نماز بھول گیا تو چاہیے کہ جب اسے یاد ذَلِكَ وَأَقِمِ الصَّلَاةَ لِلذِكْرَىٰ قَالَ آئے پڑھ لے۔اس کا کفارہ صرف یہی ہے۔اَقِمِ مُوْسَى قَالَ هَمَّامٌ سَمِعْتُهُ يَقُوْلُ بَعْدُ الصَّلوةَ لِلدِّرى * موسیٰ کہتے تھے : ہمام نے کہا: ** وَأَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي (طه: (۱٥) و میں نے انہیں بعد میں اَقِمِ الصَّلوةَ لِذِكْرِی کہتے قَالَ حَبَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ہوئے سنا اور حبان کہتے تھے: ہمام نے ہم سے بیان الفاظ أَقِمِ الصَّلوةَ لِذِكْرِى (طه: ۱۵) کی یہ ترتیب عمدۃ القاری کے مطابق ہے۔(دیکھئے عمدۃ القاری جزء خامس صفحه ۹۲-۹۴)