صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 689
صحيح البخاري - جلد ا ۶۸۹ ۹ - كتاب مواقيت الصلوة باب فى من نام عن الصلاة أو نسيها) زید بن اسلم کی روایت سے جو موطا میں ہے، حضرت ابن مسعودؓ کی روایت کی تصدیق ہوتی ہے۔(مؤطا امام مالک کتاب وقوت الصلاة باب النوم عن الصلاة) جو واقعہ كتاب التيمم باب : الصعيد الطيب وضوء المسلم روایت نمبر ۳۴۴ میں گزر چکا ہے، اس کے راوی حضرت عمران بن حصین ہیں۔اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو آخر میں جگانے کا ذکر ہے اور حضرت بلال کا کہیں ذکر نہیں اور حضرت ابوقتادہ کی اس روایت میں حضرت ابو بکر اور حضرت عمر و غیرہ کا ذکر نہیں، حضرت بلال کا ذکر ہے۔اسی طرح اور بھی اختلافی امور ہیں جن کی بناء پر بعض محققین نے یہ رائے قائم کی ہے کہ یہ دو مختلف واقعے ہیں۔تفصیل کے لئے دیکھئے فتح الباری کتاب التيمم۔باب الصعيد الطيب وضوء المسلم شرح روایت نمبر ۳۴۴) بَاب ٣٦ : مَنْ صَلَّى بِالنَّاسِ جَمَاعَةً بَعْدَ ذَهَابِ الْوَقْتِ جو شخص وقت گزر جانے کے بعد لوگوں کو باجماعت نماز پڑھائے ٥٩٦ : حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ قَالَ :۵۹۶ معاذ بن فضالہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي ہشام نے ہمیں بتایا۔انہوں نے سجی سے بچی نے سَلَمَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عُمَرَ ابو سلمہ سے، ابوسلمہ نے حضرت جابر بن عبداللہ سے ابْنَ الْخَطَّابِ جَاءَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ بَعْدَ روایت کی کہ حضرت عمر بن خطاب خندق کے دن مَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ فَجَعَلَ يَسُبُّ سورج غروب ہونے کے بعد آئے اور کفار قریش کو كُفَّارَ قُرَيْشٍ قَالَ يَا رَسُوْلَ اللهِ مَا بُرا بھلا کہنے لگے۔انہوں نے کہا: یا رسول اللہ ! مجھے تو كِدْتُ أُصَلَّى الْعَصْرَ حَتَّى كَادَتِ عصر کی نماز بھی نہیں ملی یہاں تک کہ سورج غروب الشَّمْسُ تَغْرُبُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى الله ہونے لگا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بخدا میں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهِ مَا صَلَّيْتُهَا فَقُمْنَا نے بھی نہیں پڑھی۔اس پر ہم اُٹھ کر بطحان کی طرف إِلَى بُطْحَانَ فَتَوَضَّأَ لِلصَّلَاةِ وَتَوَضَّأْنَا گئے اور آپ نے نماز کے لئے وضو کیا اور ہم نے بھی لَهَا فَصَلَّى الْعَصْرَ بَعْدَ مَا غَرَبَتِ اس کے لئے وضو کیا اور سورج غروب ہونے کے بعد الشَّمْسُ ثُمَّ صَلَّى بَعْدَهَا الْمَغْرِبَ۔آپ نے عصر کی نماز پڑھی۔پھر آپ نے اس کے بعد مغرب کی نماز پڑھی۔اطرافه: ٥٩٨ ٦٤١، ٩٤٥، ٤١١٢۔