صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 688
صحيح البخاري - جلد ا Ула ۹ - كتاب مواقيت الصلوة قَالَ بِلَال أَنَا أُوْقِظُكُمْ فَاضْطَجَعُوا حضرت بلال نے کہا: میں آپ کو جگادوں گا۔اس پر وَأَسْنَدَ بِلَالٌ ظَهْرَهُ إِلَى رَاحِلَتِهِ وہ لیٹ گئے اور حضرت بلال اپنی پیٹھ کو کجاوے سے لگا فَغَلَبَتْهُ عَيْنَاهُ فَنَامَ فَاسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ کر بیٹھ گئے۔اتنے میں نیند کے غلبہ سے ان کی آنکھ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ طَلَعَ لگ گئی اور وہ سو گئے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم جاگے اور حَاجِبُ الشَّمْسِ فَقَالَ يَا بِلَالُ أَيْنَ مَا حالت یہ تھی کہ سورج کا کنارہ نکل چکا تھا۔اس پر قُلْتَ قَالَ مَا أُلْقِيَتْ عَلَيَّ نَوْمَةٌ مِثْلُهَا آپ نے فرمایا: بلال! کہاں ہے جو تم نے کہا تھا؟ قَطُّ قَالَ إِنَّ اللَّهَ قَبَضَ أَرْوَاحَكُمْ حِيْنَ جواب دیا کہ مجھے ایسی نیند بھی نہیں آئی۔آپ نے شَاءَ وَرَدَّهَا عَلَيْكُمْ حِيْنَ شَاءَ يَا بِلَالُ فرمایا: اللہ تعالیٰ نے جب چاہا۔تمہاری روحیں قبضہ میں رکھیں اور جب چاہا انہیں واپس کر دیا۔بلال! قُمْ فَأَذِنْ بِالنَّاسِ بِالصَّلَاةِ فَتَوَضَّأَ اُٹھو اور لوگوں کو نماز کی اطلاع دو۔آپ نے وضو کیا فَلَمَّا ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ وَابْيَاضَتْ اور جب سورج بلند ہوا اور اچھی طرح روشن ہو گیا تو آپ اُٹھے اور آپ نے نماز پڑھی۔قَامَ فَصَلَّى۔طرفه: ٧٤٧١۔تشریح: باب نمبر ۳۴ میں ایک صحابی کی احتیاط کا ذکر ہے اور اس باب میں خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل پیش کر کے دوسری مثال دی ہے۔پہلی مثال سورج ڈوبنے سے متعلق ہے اور دوسری سورج نکلنے سے متعلق۔دونوں وقتوں میں نماز پڑھنے سے احتیاطاً اجتناب کیا جاتا تھا۔روایت نمبر ۵۹۵ اور نمبر ۵۹۶ میں نماز عصر اور فجر کا ذکر ہے۔مگر عنوانِ باب ( نمبر ۳۴) میں مسئلہ کو وسعت دی ہے۔ظہر کے وقت ابر ہو تو اس سے متعلق احتیاط یہی ہے کہ اس کے پہلے وقت میں ذرا دیر کر کے پڑھ لی جائے اور مغرب و عشاء کے وقت بھی۔بعض نے یہ کہا ہے کہ ظہر میں تاخیر کر کے عصر کو اس کے ساتھ جمع کر لیا جائے۔جیسا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی نسبت مروی ہے : قَالَ إِذَا كَانَ يَوْمُ غَيْمٍ فَأَخِرُوا الظُّهْرَ وَعَجِلُوا الْعَصْرَ۔فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۸۸) { کہ آپ نے فرمایا: جس دن بادل ہوں تو ظہر میں تاخیر کر لو اور عصر کو وقت سے ) جلدی (اس کے ساتھ جمع کر لو۔} روایت نمبر ۵۹۵ میں جس واقعہ کا ذکر کیا گیا ہے۔اس کے بارے میں یہ اختلاف ہوا ہے کہ آیا یہ غزوہ خیبر سے لوٹنے پر پیش آیا یا غزوہ حدیبیہ سے۔مسلم کی روایت سے جو حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہے، معلوم ہوتا ہے کہ فتح خیبر سے لوٹتے وقت یہ ہوا۔(مسلم كتاب المساجد باب قضاء الصلاة (الفائته مگر ابوداؤد نے حضرت ابن مسعود سے جو روایت نقل کی ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ حدیبیہ سے لوٹتے وقت پیش آیا تھا۔(ابو داؤد۔کتاب الصلاة۔