صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 687
صحيح البخاري - جلد ا YAL باب ٣٤: اَلتَبْكِيْرُ بِالصَّلَاةِ فِي يَوْمِ غَيْمٍ بادل کے دن نماز اول وقت پڑھنا ۹ - كتاب مواقيت الصلوة ٥٩٤ : حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ قَالَ :۵۹۴ معاذ بن فضالہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى هُوَ ابْنُ أَبِي ہشام نے ہمیں بتایا کہ انہوں نے سجی سے جو کہ كَثِيرٍ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ أَنَّ أَبَا الْمَلِيْح ابوکیر کے بیٹے تھے ، پیچکی نے ابوقلابہ سے روایت کی حَدَّثَهُ قَالَ كُنَّا مَعَ بُرَيْدَةَ فِي يَوْمٍ ذِي کہ ابو الملیح نے ان سے بیان کیا، کہا: ہم بادل والے دن حضرت بریدہ کے ساتھ تھے تو انہوں نے کہا کہ غَيْمٍ فَقَالَ بَكْرُوْا بِالصَّلَاةِ فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ تَرَكَ صَلَاةَ الْعَصْرِ حَبِطَ عَمَلُهُ۔طرفة: ٥٥٣ تشریح: نماز کو اول وقت پڑھو۔کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جس نے عصر کی نماز چھوڑی اس کا عمل ا کارت گیا۔سعید بن منصور نے اپنی سنن میں عبدالعزیز بن رفیع کے حوالہ سے نبی ﷺ کے یہ الفاظ نقل کئے ہیں: عَجِلُوا صَلوةَ الْعَصْر فِي يَوْمِ الغَيْمِ۔(فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۸۷-۸۸ ) اس روایت کی سند قوی ہے۔اس لئے امام بخاری نے عنوانِ باب میں اپنی روایت کی بناء پر اس کو لحوظ رکھتے ہوئے بكْرُوا کے الفاظ اختیار کئے ہیں۔باب ٣٥ : الْأَذَانُ بَعْدَ ذَهَابِ الْوَقْتِ وقت گزر جانے کے بعد اذان دینا ٥٩٥ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مَيْسَرَةَ ۵۹۵ عمران بن میسرہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلِ قَالَ محمد بن فضیل نے ہمیں بتایا۔کہا: حصین نے ہم سے حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْن أَبِى بیان کیا کہ انہوں نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے، عبداللہ نے اپنے باپ سے روایت کی کہ انہوں نے قَتَادَةَ عَنْ أَبِيْهِ قَالَ سِرْنَا مَعَ النَّبِيِّ کہا: ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک رات صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً فَقَالَ سفر کیا۔لوگوں میں سے کسی نے کہا: یا رسول اللہ ! بَعْضُ الْقَوْمِ لَوْ عَرَمْتَ بِنَا يَا رَسُوْلَ آپ ہمارے ساتھ ٹھہر کر تھوڑا سا سولیں تو آپ نے اللهِ قَالَ أَخَافُ أَنْ تَنَامُوْا عَنِ الصَّلَاةِ فرمایا: میں ڈرتا ہوں کہ تم سوکر نماز ضائع کر دو گے۔