صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 686
صحيح البخاري - جلد ا MAY ۹ - كتاب مواقيت الصلوة اس سے اسی مشرکانہ میلان نفس کا قلع قمع کرنا مقصود ہے: وَمَنْ وقَعَ فِي الشُّبُهَاتِ كَرَاعٍ يُرْعَى حَوْلَ الْحِمَى يُوشِكُ أَنْ يُوَاقِعَهُ ( دیکھئے کتاب الایمان باب ۳۹ روایت نمبر ۵۲ ) ( یعنی اور جوان مشتبہ امور میں جا پڑا تو وہ اس چرواہے کی مانند ہے جو اپنا ریوڑ رکھ کے آس پاس چرا رہا ہے۔قریب ہے کہ اس میں ریوڑ جا پڑے۔} حضرت عمر نے اپنے زمانہ خلافت میں نماز عصر کے بعد نماز پڑھنے پر بعض دفعہ بدنی سزادی تو اس سختی کی وجہ بھی یہی تھی۔مصنف عبدالرزاق میں مروی ہے کہ انہوں نے زید بن خالد کو عصر کے بعد نماز پڑھنے پر مارا اور فرمایا: یا زَيْدَ بنَ خَالِدٍ لَوْ لَا أَنِّي أَخْشَى أَنْ يَتَّخِذَهَا النَّاسُ سُلَّمًا إِلَى الصَّلوةِ حَتَّى اللَّيْلَ لَمُ أَضْرِبُ فِيهِمَا۔(مصنف عبد الرزاق۔كتاب الصلوة باب الساعة التى يكره فيها الصلاة : ۳۹۷۲ یعنی میں اس خوف سے بدنی سزا دیتا ہوں کہ کہیں ایسا نہ ہو ان دو رکعتوں کو لوگ غروب آفتاب تک نماز پڑھنے کا زینہ بنا لیں۔یحی بن بکیر نے بھی یہی تو جیہہ واضح الفاظ میں نقل کی ہے: وَلكِنِّي أَخَافُ أَنْ يَأْتِيَ بَعْدَكُمْ قَوْمٌ يُصَلُّوْنَ مَا بَيْنَ الْعَصْرِ إِلَى الْمَغْرِبِ حَتَّى يَمُرُّوا بِالسَّاعَةِ الَّتِى نَهَى رَسُولُ اللهِ الا الله أنْ يُصَلَّى فِيهَا۔(فتح الباری جزء ثانى صفحہ ۸۶ ) ان حوالوں میں اس بات کی تصریح ہے کہ عصر کے بعد نماز پڑھنے سے اس لئے منع کیا جاتا ہے کہ لوگ رفتہ رفتہ اس وقت میں نماز پڑھنا شروع کر دیں گے جس سے روکا گیا تھا۔امیر معاویہ بھی بعض لوگوں کو عصر کے بعد نماز پڑھتے دیکھ کر تعجب و نفرت کا اظہار کرتے تھے۔(روایت نمبر ۵۸۷) روایت نمبر ۵۸۸ : امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ الصَّلوةُ بَعْدَ الْفَجْرِ ( باب نمبر ۳۰) اور لَا يَتَحَرَّى الصَّلوةَ قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ (باب نمبر (۳) کے عنوان سے دو باب قائم کر کے اُن کے ذیل میں دو قسم کی روایتیں یہی بتانے کے لئے لائے ہیں کہ بَعْدَ الْعَصْرِ اور بَعْدَ الْفَجْرِ نماز پڑھنے کی ممانعت کا تعلق دراصل طُلُوعِ الشَّمْسِ وَمَغْرَبِهَا) سورج چڑھنے اور غروب ہونے کے ساتھ ہے اور تیسرے باب ( نمبر ۳۲) میں حضرت ابن عمرؓ کے الفاظ لَا أَنْهَى أَحَدًا يُصَلَّى بِلَيْلٍ وَّلَا نَهَارٍ مَّا شَاءَ غَيْرَ أَنْ لَّا تَحَرَّوا طُلُوْعَ الشَّمْسِ وَلَا غُرُوْبَهَا (روایت نمبر ۵۸۹) سے وجہ تحریم کی مزید وضاحت کر دی ہے۔باب ۳۱ و باب ۳۲ کے عنوان اور اس کی روایتوں سے پتہ چلتا ہے کہ ممانعت دو قسم کی ہے۔ممانعت حرمت اور ممانعت کراہیت۔یہ فرق بعض علماء سلف نے بھی ملحوظ رکھا ہے۔چنانچہ علامہ ابن حجر نے ان کے اقوال کا حوالہ اپنی کتاب فتح الباری میں دیا ہے۔علماء سلف کی اصطلاح میں کراہیت تحریمہ اور کراہیت تنزیہہ کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں اور انہوں نے تین اوقات میں نماز پڑھنے کی ممانعت کراہیت تنزیہ قرار دی ہے۔تنزیہ زاہت سے ہے۔نزاہت کے معنے پاکیزگی۔اقامت الصلوۃ کے وقت یعنی اس وقت جب امام خطبہ کے لئے کھڑا ہو اور اس وقت جبکہ نماز با جماعت ہو رہی ہو نفلی نماز یعنی سنتیں پڑھنا جائز نہیں۔(تفصیل کے لئے دیکھئے فتح الباری جز وثانی صفحہ ۸۳-۸۴) ان کے نزدیک عصر اور فجر کے بعد نماز پڑھنے کی ممانعت بھی اسی قسم کی ہے۔کراہیت تحریم نہیں۔اس فقیہانہ اختلاف کے پیش نظر یہ باب قائم کیا گیا ہے۔