صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 685 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 685

البخاري - جلد ) صحیح ۶۸۵ ۹ - كتاب مواقيت الصلوة پیدا کیا۔} اور مثالیں دے دے کر نہایت لطیف اور حکیمانہ پیرایہ میں سمجھایا ہے کہ یہ سورج اور ساری مادی کائنات صرح مُمَرَّدٌ مِنْ قَوَارِيرَ۔(النمل: ۴۵) ( یعنی یہ تو ایک ایسا عمل ہے جو شیشوں سے جڑا ہوا ہے) سے بڑھ کر حقیقت نہیں رکھتی۔تفصیل کے لئے دیکھئے: اسلامی اصول کی فلاسفی۔زیر عنوان ایک برتر ہستی کی تلاش ، صفحہ ۴۹۔روحانی خزائن جلده اصفحه ۳۶۳) بعض بدوی عربوں کے دلوں میں سورج پرستی نے ایسا گھر کر لیا تھا کہ اسلام پھیلنے کے بعد بھی صحرائے عرب کے دور دراز حصوں میں اس کا کچھ نہ کچھ اثر باقی رہا۔اساطیر الاولین کا قابل مصنف بلغراف سیاح کے حوالے سے صفحہ ۲۹ پرلکھتا ہے: اِنَّ عِبَادَةَ الشَّمْسِ الَّتِى كَانَتْ شَائِعَةٌ فِى الْأَعْصُرِ الْغَابِرَةِ لَمْ تُمْحَ بَعْدُ مِنَ الْبَوَادِى الَّتِي تُحِيطُ سُوْرِيَا فَإِنَّهُ عِنْدَمَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ مُنِيرَةً شَهِدْتُ مَشْهَدًا غَرِيبًا مَّرَّاتٍ مُّتَوَالِيَةً وَهُوَ الْعِبَادَةُ الَّتِي يُقَدِّمُهَا الْبَدْرُ لِلشَّمْسِ فَلَمَّا ظَهَرَ قَوْصُهَا الْمُنِيرُ فِي الْأُفُقِ حَوَّلَ الْقَوْمُ نَظَرَهُمْ نَحْوَ الْمَشْرِقِ وَأَخَذُوا بالصَّلوةِ وَهُمْ عَلَى ظُهُورِ الْحِمَالِ يُجَاوِبُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا إِلَى أَنْ ظَهَرَ إِطَارُ الشَّمْسِ ظُهُورًا تَامَّا۔یعنی صحرائے شام میں میں نے کئی مرتبہ ایک عجیب منظر دیکھا کہ طلوع آفتاب کے وقت بدو اونٹوں پر سوار ہو کر مشرق کی طرف منہ کر کے دعا میں مشغول ہو جاتے تھے۔ایک بدوی پڑھتا اور دوسرے بدوی اس کے جواب میں پڑھتے یہاں تک کہ سورج پورے طور پر ظاہر ہو جاتا۔قدیم سورج پرستی کے آثار اس وقت تک صحرا سے نہیں ہے۔عربوں میں ابتداء أسورج پرستی بابلیوں، کلدانیوں اور اشوریوں کے اختلاط سے پھیلی۔شام و عراق کے ارد گرد کے علاقے ان قوموں کے وطن تھے۔مذکورہ بالا شہادت سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض بدوی قبائل میں سورج پرستی کا اثر اسلام کے بعد بھی ایک عرصہ تک باقی رہا۔شارع اسلام علیہ السلام نے اپنی اصلاح میں جس کی نظیر دنیا میں نہیں ملتی شرک اور گناہ کے بواعث اور متعلقات سے بھی اپنے پیرؤوں کو روک دیا جن سے شرک اور گناہ کے لئے تحریک پیدا ہوسکتی تھی۔مثلاً آپ نے عبد القیس کے نمائندوں کو شراب کے برتن استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے تا برتن دیکھ کر شراب پینے کی تحریک پیدا نہ ہو۔( کتاب الایمان باب نمبر ۴۰ روایت نمبر ۵۳) جن اوقات میں شراب پی جاتی تھی اُن میں عبادتیں رکھ دی گئیں تا شراب پینے کے وقتوں سے توجہ عبادت کی طرف منعطف ہو۔اس حکمت پر گھروں میں تصویریں اور مورتیں رکھنے کی ممانعت مبنی ہے۔اس کی اور بہت سی مثالیں آگے آئیں گی۔لَا تَحَرُوا بِصَلَوتِكُمْ طُلُوعَ الشَّمْسِ وَلَا غُرُوبَهَا مَا ارشاد بھی بتاتا ہے کہ عربوں کے دلوں سے سورج پرستی کا میلان کلی طور پر منانے کے لئے ان اوقات میں نماز حرام قرار دی گئی ہے جن میں وہ پہلے سورج کی عبادت کیا کرتے تھے۔امام مسلم کی روایتوں میں جو مستند ہیں دوپہر کے وقت میں بھی جبکہ سورج سر پر ہوتا ہے نماز پڑھنے کی حرمت کا ذکر آتا ہے۔(مسلم کتاب صلاة المسافرين باب الاوقات التي نهى عن الصلاة فيها نيز باب اسلام عمرو بن عبسة) ي مینوں اوقات سورج پرستی کے تھے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تاکیدی ارشادات سے واضح ہوتا ہے کہ بعض زیر اصلاح لوگوں میں یہ میلان ضرور تھا کہ سورج نکلتے اور ڈوبتے وقت نماز پڑھیں جیسا کہ الفاظ لَا تَحَرَّوُا بِصَلوتِكُمْ طُلُوعَ الشَّمْسِ وَلَا غُرُوبَها دلالت کرتے ہیں۔تحری کے معنے قصداً ایسی بات کی تلاش کی جو زیادہ مناسب ہو۔(المنجد في اللغة تحت لفظ حرى