صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 684
صحيح البخاری جلد ) ۶۸۴ ۹ - كتاب مواقيت الصلوة نزدیک صرف دو وقتوں میں نماز پڑھنا ممنوع ہے۔اس وقت جبکہ سورج نکل رہا ہو یا ڈوب رہا ہو۔لَا أَنَّهَى أَحَدًا يُصَلَّى بِلَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ مَّا شَاءَ۔(روایت نمبر ۵۸۹) یعنی رات یا دن کی کسی گھڑی میں جس وقت چاہے اور جتنی چاہے نماز پڑھے میں اس سے کسی کو منع نہیں کرتا۔یعنی اُن میں سے بعض اوقات میں اگر چہ نماز پڑھنا مکروہ ہے مگر حرام نہیں جس کی وجہ سے میں لوگوں کو روکوں۔اس باب میں کراہیت اور حرمت کے درمیان فرق دکھلا کر پہلے دو بابوں کی مندرجہ روایتوں کی تشریح کر دی ہے جن میں دو قسم کی ممانعت ہے۔صریح ممانعت حرمت : لا تَحرُّوا بِصَلَوتِكُمْ طُلُوْعَ الشَّمْسِ وَلَا غُرُوْبَهَا روایت نمبر ۵۸۲) اور ممانعت کراہیت۔ان تین بابوں کے بعد باب نمبر ۳۳ قائم کیا ہے۔جس میں ان تخصیصیات کا ذکر کیا ہے جن کا پہلے ذکر کیا جا چکا ہے۔خلاصہ یہ کہ اس لطیف ترتیب سے روایات کا اختلاف رفع کیا ہے۔عصر کے بعد دو رکعتیں نبی ﷺ نے اپنے لئے خاص رکھی ہیں جو مسجد میں نہیں بلکہ گھر میں آپ پڑھا کرتے تھے۔مَخَافَةَ أَنْ يُفْقِلَ عَلَى أُمَّتِهِ وَكَانَ يُحِبُّ مَا يُخَفِّفُ عَنْهُمْ (روایت نمبر ۵۹) اس سے معلوم ہوا کہ عصر کے بعد نفلی نماز پڑھنا حرام نہیں بلکہ مکروہ ہے اور اس کراہیت کی وجہ یہ بھی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو مشقت میں نہیں ڈالنا چاہا۔پس نبی ﷺ اگر اچھی بات سے بھی روکیں تو ادب اسی میں ہے کہ انسان اس اچھی بات سے بھی رُک جائے۔کیونکہ دین کی اصل روح اطاعت ہے نہ اعمال کی کثرت۔اب رہا یہ سوال کہ سورج نکلتے یا ڈوبتے وقت نماز پڑھنا کیوں حرام کیا گیا ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ عربوں میں کو اکب پرستی بھی رائج تھی۔اُن میں سے بہت لوگ خصوصاً اہل بادیہ اور حمیر کے قبائل خصوصیت سے سورج کی پرستش کرتے تھے۔علامہ الوسی بغدادی اپنی مشہور کتاب بلوغ الارب فی معرفة أحوال العرب“ میں عربوں کی مختلف عبادتوں کا ذکر کرتے ہوئے اُن کی سورج پرستی کی نسبت لکھتے ہیں: وَمِنْ شَرِيعَتِهِمْ فِي عِبَادَتِهَا أَنَّهُمُ اتَّخَذُوا لَهَا صَنَمًا بِيَدِهِ جَوْهَرٌ عَلَى لَوْن النَّارِ وَلَهُ بَيْتْ خَاصٌ قَدْ بَنَوهُ بِاسْمِهِ۔۔۔۔يُصَلُّونَ فِيهِ لَهَا ثَلَاثَ كَرَّاتٍ فِي الْيَوْمِ۔۔۔۔وَهُمْ إِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ سَجَدُوا كُلُّهُمْ لَهَا وَإِذَا غَرَبَتْ وَإِذَا تَوَسَّطَتْ بلوغ الارب في معرفة أحوال العرب۔ذكر شي من أخبار الأصنام۔فمنهم عباد الشمس۔جزء ثانی صفحه ۲۱۵-۲۱۲) ترجمه : اور اُن کی شریعت کی عبادت میں سے یہ بھی تھا کہ انہوں نے (سورج) کی عبادت کے لیے ایک بت بنایا ہوا تھا۔اُس کے ہاتھ پر آگ کے رنگ کا نشان تھا اور اس کے لیے مخصوص کمرہ ہوتا ، جسے وہ اس کے نام سے موسوم کرتے تھے۔اور اس میں (دن کے ) تین اوقات میں اس کی پرستش کرتے تھے۔جب سورج نکل رہا ہوتا اور جب غروب ہو رہا رہا ہوتا اور جب نصف النہار پر ہوتا تو وہ سب اس کو سجدہ کرتے تھے۔} لات جس کا ذکر قرآن مجید میں آتا ہے سورج کا ہی ایک بہت تھا۔عربوں کی اس سورج پرستی ہی کی وجہ سے انہیں قرآن مجید نے بار بار منع کیا ہے: لَا تَسْجُدُوا لِلشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُوا لِلَّهِ الَّذِى خَلَقَهُنَّ ( حم السجدة : ۳۸) نہ سورج کو سجدہ کرو اور نہ چاند کو اور اللہ کو سجدہ کرو جس نے انہیں روایت نمبر ۵۸۹ کے یہ الفاظ فتح الباری مطبوعہ انصاریہ کے مطابق ہیں۔(دیکھئے حاشیہ فتح الباری جزء ثانی صفہ ۸۲)