صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 683 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 683

صحيح البخاري - جلد ا ۹ - كتاب مواقيت الصلوة يَدَعُهُمَا سِرًّا وَّ لَا عَلَانِيَةً رَكْعَتَانِ قَبْلَ میں چھوڑتے اور نہ اعلانیہ۔دورکعتیں صبح کی نماز سے صَلَاةِ الصُّبْحِ وَرَكْعَتَانِ بَعْدَ الْعَصْرِ پہلے اور دور کعتیں عصر کے بعد۔۔اطرافه ۰۹۰، ۵۹۱، ۰۹۳، ۱۹۳۱۔۵۹۳ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ ۵۹۳ محمد بن عرعرہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ شعبہ نے ہمیں بتایا: ابو اسحاق سے مروی ہے کہ انہوں قَالَ رَأَيْتُ الْأَسْوَدَ وَ مَسْرُوْقًا شَهِدَا نے کہا: میں نے اسود اور مسروق کو دیکھا کہ وہ دونوں عَلَى عَائِشَةَ قَالَتْ مَا كَانَ النَّبِيُّ حضرت عائشہ سے متعلق شہادت دیتے تھے کہ وہ کہتی صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِيْنِي فِي يَوْمٍ ھیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کبھی میرے پاس دن بَعْدَ الْعَصْرِ إِلَّا صَلَّى رَكْعَتَيْنِ۔میں عصر کے بعد آیا کرتے تو ضرور آپ دو رکعتیں اطرافه ۵۹۰، ۵۹۱، ۰۹۲، ۱۶۳۱۔پڑھتے تھے۔تشریح : امام بخاری نے ان ابواب کی جوتر تیب قائم کی ہے اس سے ان کی یہ رائے معلوم ہوتی ہے کہ جن نمازوں کی تخصیص مستند روایتوں کی رو سے واضح ہے اُن کا پڑھنا جائز ہے۔مثلا صبح کی یا ظہر کی سنتیں جو رہ گئی ہوں تو وہ سورج نکلنے یا غروب ہونے سے پہلے پہلے پڑھی جاسکتی ہیں۔ایسا ہی روایت مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِّنَ الْفَجْرِ يَا مِنَ الْعَصْرِ۔۔۔میں بھی ایک تخصیص کی گئی ہے۔اس پر بھی عمل درآمد ہونا چاہیے۔وَعَلَى هَذَا الْقِيَاس۔جن نمازوں کا ذکر خاص طور پر احادیث میں آتا ہے۔وہ بھی سورج نکلنے یا غروب ہونے سے پہلے پہلے پڑھنا جائز ہے۔اگر ان کے پڑھنے کا موقع نہ ملے تو پھر سورج نکلنے یا غروب ہونے کے بعد انہیں پڑھا جائے۔چنا نچہ امام موصوف نے باب ۳۰ کی پہلی روایت میں صحابہ کی شہادت پیش کی ہے جو رِجَالٌ مَّرْضِيُّون یعنی پسندیدہ لوگوں کی شہادتیں ہیں ، جس سے اس صریح ممانعت کا پتہ چلتا ہے۔دوسری روایت میں آپ کے الفاظ لَا تَحَرَّوا بِصَلوتِكُمْ طُلُوعَ الشَّمْسِ وَلَا غُرُوبَهَا نقل کئے ہیں۔جس کے یہ معنے ہیں کہ آدمی جان بوجھ کر صبح اور عصر میں اس قدر تاخیر نہ کر دے کہ جب سورج نکلنے یا ڈوبنے لگے تو وہ نماز پڑھنے کے لئے اُٹھے۔تیسری روایت میں آپ کا ارشاد زیادہ واضح ہے: فَأَخِرُوا الصَّلوةَ حَتَّى تَرْتَفِعَ چوکی روایت میں پھر ایک صحابی کی شہادت پیش کی ہے۔اس کے بعد باب نمبر ۳۱ میں مغرب سے پہلے نماز پڑھنے کی ممانعت سے متعلق عنوان قائم کر کے مزید روایتیں پیش کی ہیں۔اس کے بعد باب نمبر ۳۲ قائم کیا ہے جس میں حضرت عمر، حضرت ابن عمر، حضرت ابوسعید اور حضرت ابو ہریرہ کی سابقہ روایات کا حوالہ دیتے ہوئے حضرت ابن عمر کا فقیہانہ قول نقل کیا ہے۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے