صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 683
صحيح البخاري - جلد ا ۶۸۳ ۹ - كتاب مواقيت الصلوة يَدَعُهُمَا سِرًّا وَ لَا عَلَانِيَةً رَكْعَتَانِ قَبْلَ میں چھوڑتے اور نہ اعلانیہ۔ دورکعتیں صبح کی نماز سے صَلَاةِ الصُّبْحِ وَرَكْعَتَانِ بَعْدَ الْعَصْرِ پہلے اور دو رکعتیں عصر کے بعد ۔ اطرافه: ٥٩٠، 591، 593، ١٦٣١۔ ٥٩٣ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ ۵۹۳ محمد بن عرعرہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ شعبہ نے ہمیں بتایا: ابواسحاق سے مروی ہے کہ انہوں قَالَ رَأَيْتُ الْأَسْوَدَ وَ مَسْرُوقًا شَهِدَا نے کہا: میں نے اسود اور مسروق کو دیکھا کہ وہ دونوں عَلَى عَائِشَةَ قَالَتْ مَا كَانَ النَّبِيُّ حضرت عائشہؓ سے متعلق شہادت دیتے تھے کہ وہ کہتی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِيْنِي فِي يَوْمٍ تھیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کبھی میرے پاس دن بَعْدَ الْعَصْرِ إِلَّا صَلَّى رَكْعَتَيْنِ۔ میں عصر کے بعد آیا کرتے تو ضرور آپ دو رکعتیں اطرافه: ٥٩٠، 591، 593، ١٦٣١۔ پڑھتے تھے۔ تشریح : امام بخاری نے ان ابواب کی جو ترتیب قائم کی ہے اُس سے اُن کی یہ رائے معلوم ہوتی ہے کہ جن نمازوں کی تخصیص مستند روایتوں کی رو سے واضح ہے اُن کا پڑھنا جائز ہے۔ مثلا دھنا جائز ہے۔ مثلا صبح کی یا ظہر کی سنتیں جو رہ گئی ہوں تو وہ سورج نکلنے یا غروب ہونے سے پہلے پہلے پڑھی جاسکتی ہیں۔ ایسا ہی روایت مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الْفَجْرِ يَا مِنَ الْعَصْرِ ۔۔۔ میں بھی ایک تخصیص کی گئی ہے۔ اس پر بھی عمل درآمد ہونا چاہیے۔ وَعَلَى هَذَا الْقِيَاسِ ۔ جن نمازوں کا ذکر خاص طور پر احادیث میں آتا ہے۔ وہ بھی سورج نکلنے یا غروب ہونے سے پہلے پہلے پڑھنا جائز ہے۔ اگر ان کے پڑھنے کا موقع نہ ملے تو پھر سورج نکلنے یا غروب ہونے کے بعد انہیں پڑھا جائے۔ یعنی چنانچہ امام موصوف نے باب ۳۰ کی پہلی روایت میں صحابہ کی شہادت پیش کی ہے جو رِجَالٌ مَّرْضِيُّون پسندیدہ لوگوں کی شہادتیں ہیں؛ جس سے اس صریح ممانعت کا پتہ چلتا ہے۔ دوسری روایت میں آپ کے الفاظ لَا تَحَرَّوا ا بِصَلَوتِكُمْ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَلَا غُرُوبَهَا نقل کئے ہیں۔ جس کے یہ معنے ہیں کہ آدمی جان بوجھ کر صبح اور عصر میں اس قدر تاخیر نہ کر دے کہ جب سورج نکلنے یا ڈوبنے لگے تو وہ نماز پڑھنے کے لئے اُٹھے۔ تیسری روایت میں آپ کا ارشاد زیادہ واضح ہے: فَأَخِرُوا الصَّلوةَ حَتَّى تَرْتَفِعَ ۔ چومی روایت میں پھر ایک صحابی کی شہادت پیش کی ہے۔ اس کے بعد باب نمبر ۳۱ میں مغرب سے پہلے نماز پڑھنے کی ممانعت سے متعلق عنوان قائم کر کے مزید روایتیں پیش کی ہیں۔ اس کے بعد باب نمبر ۳۲ قائم کیا ہے جس میں حضرت عمرؓ، حضرت ابن عمرؓ، حضرت ابوسعید اور حضرت ابو ہریرہ کی سابقہ روایات کا حوالہ دیتے ہوئے حضرت ابن عمر کا فقیہانہ قول نقل کیا ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے