صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 681
صحيح البخاري - جلد ا ٦٨١ ۹ - كتاب مواقيت الصلوة بَاب ۳۲ : مَنْ لَّمْ يَكْرَهِ الصَّلَاةَ إِلَّا بَعْدَ الْعَصْرِ وَالْفَجْرِ جس نے نماز نا پسند نہیں کی مگر عصر اور فجر کے بعد رَوَاهُ عُمَرُ وَابْنُ عُمَرَ وَأَبُو سَعِيدٍ حضرت عمرؓ اور حضرت ابن عمرؓ اور حضرت ابوسعید اور وَأَبُو هُرَيْرَةَ۔ حضرت ابو ہریرہ نے روایت کی۔ ٥٨٩ : حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا ۵۸۹ ابو عمان نے ہم سے بیان کیا ، ( کہا: ) حماد حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوْبَ عَنْ نَافِعٍ بن زید نے نے ۔ ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب سے، ایوب عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ أُصَلِّي كَمَا رَأَيْتُ نے نافع ہے۔ نافع نے حضرت ابن عمر سے روایت أَصْحَابِي يُصَلُّوْنَ لَا أَنْهَى أَحَدًا کی ۔ انہوں نے کہا: میں اسی طرح نماز پڑھتا ہوں يُصَلِّي بِلَيْلٍ وَلَا نَهَارٍ مَّا شَاءَ غَيْرَ أَنْ جس طرح میں نے اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھتے دیکھا لَّا تَحَرَّوْا طُلُوْعَ الشَّمْسِ وَلَا غُرُوْبَهَا ۔ اطرافه: ١٦٢٩،١١٩٢،٥٨٥،٥٨٢، ٣٢٧٣۔ تھا۔ میں کسی کو منع نہیں کرتا کہ وہ رات اور دن کو جتنی چاہے نماز پڑھے مگر یہ کہ تم سورج کے نکلنے اور اس کے غروب ہونے کی عمدا جستجو نہ کیا کرو۔ بَاب ۳۳ : مَا يُصَلَّى بَعْدَ الْعَصْرِ مِنَ الْفَوَائِتِ وَنَحْوِهَا جو نمازیں عصر کے بعد پڑھی جائیں ۔ یعنی وہ جو رہ گئی ہوں اور ان جیسی وَقَالَ كُرَيْبٌ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ صَلَّی اور گزیب نے کہا: حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ النَّبِيُّ ﷺ بَعْدَ الْعَصْرِ رَكْعَتَيْنِ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد دو وَقَالَ شَغَلَنِيْ نَاسٌ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ رکعتیں پڑھیں اور فرمایا: عبدالقیس کے لوگوں نے عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ۔ مجھے ظہر کے بعد دو رکعتیں پڑھنے نہیں دیں۔ ٥٩٠ : حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا ۵۹۰ : ابونعیم نے ہم سے بیان کیا، کہا: عبدالواحد بن عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ قَالَ حَدَّثَنِي ایمن نے ہمیں بتایا۔ کہا: میرے باپ نے مجھ سے أَبِي أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ قَالَتْ وَالَّذِي بیان کیا کہ انہوں نے حضرت عائشہ سے سنا۔ کہتی