صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 678 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 678

صحيح البخاري - جلد ا ۶۷۸ ۹ - كتاب مواقيت الصلوة ٥٨٣ : وَقَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ عُمَرَ قَالَ ۵۸۳ اور انہوں نے کہا: مجھ سے حضرت ابن عمر قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے بیان کیا، کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے إِذَا طَلَعَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَأَخِرُوا فرمایا: جب سورج کا کنارہ نکل آئے تو تم نماز میں الصَّلَاةَ حَتَّى تَرْتَفِعَ وَإِذَا غَابَ تاخیر کرو۔ یہاں تک کہ سورج بلند ہو جائے اور جب حَاجِبُ الشَّمْسِ فَأَخِرُوا الصَّلَاةَ سورج کا کنارہ غائب ہو جائے تو نماز میں تاخیر کرو۔ یہاں تک کہ سورج چھپ جائے۔ عبدہ نے بھی ان حَتَّى تَغِيْبَ تَابَعَهُ عَبْدَةُ ۔ طرفه ۳۲۷۲ کی طرح یہی بیان کیا۔ ٥٨٤ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ۵۸۴ : عبید بن اسمعیل نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عَنْ أَبِي أُسَامَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ ابواسامہ سے، ابواسامہ نے عبید اللہ سے، عبید اللہ حُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ حَفْصِ نے خبیب بن عبدالرحمن سے، خبیب نے حفص بن ابْنِ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُوْلَ عاصم سے حفص نے حضرت ابو ہریرہ سے روایت کی اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو قسم کی خریدو بَيْعَتَيْنِ وَعَنْ لَّبْسَتَيْنِ وَعَنْ صَلَاتَيْنِ فروخت سے اور دو طرز کے لباس سے اور دو نمازوں نَهَى عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّى سے منع فرمایا۔ آپ نے فجر کے بعد سورج نکلنے تک تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى اور عصر کے بعد سورج غروب ہونے تک نماز پڑھنے تَغْرُبَ الشَّمْسُ وَعَنِ اشْتِمَالِ سے اور بدن پر کپڑا اس طرح لپیٹنے سے کہ دونوں الصَّمَّاءِ وَعَنِ الِاحْتِبَاءِ فِي ثَوْبِ ہاتھ اندر لیٹے رہیں اور ایک ہی کپڑے میں گوٹھ مار کر زانو اٹھا کر اس طرح بیٹھنے سے کہ اپنی شرمگاہ کو اوپر کی وَاحِدٍ يُفْضِي بِفَرْجِهِ إِلَى السَّمَاءِ وَعَنِ الْمُنَابَذَةِ وَالْمُلَامَسَةِ۔ طرف سے کھلا رکھے اور پھینک کر اور ہاتھ سے چھو کر خرید و فروخت کرنے سے منع فرمایا۔ اطرافه: ٣٦٨، ٥٨٨ ، ۱۹۹۳ ، ۲۱٤۰ ، ٢١٤٦، ٥٨١٩، ٥٨٢١۔ ی مذکورہ بالا باب کے ذیل میں جو روایتیں لائی گئی ہیں ان میں مر کے بعد بھی نماز پڑھنے کی ممانعت کا صریح عصر ذکر ہے۔ مگر عنوان باب میں فجر کی تخصیص کی گئی ہے۔ جس کا سبب علامہ ابن حجر یہ بتاتے ہیں ہیں کہ نبی صلى الله