صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 676
صحيح البخاري - جلد ا YZY ۹ - كتاب مواقيت الصلوة وہ وہاں نقل کی۔اس میں صبح کی نماز کا پہلے ذکر ہے، اس لئے یہ یہاں نقل کی۔(فتح الباری الجزء الثانی صفحہ ۷۵ ) دونوں روایتوں کی سند مختلف ہے جس کی وجہ سے راویوں کے بیان میں یہ تقدیم و تاخیر واقع ہوئی ہے۔امام موصوف نے ترتیب ابواب میں یہ خفیف سا فرق بھی نظر انداز نہیں فرمایا۔بَاب ۲۹: مَنْ أَدْرَكَ مِنَ الصَّلَاةِ رَكْعَةً جس نے نماز سے ایک رکعت پالی ٥٨٠: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوْسُفَ :۵۸۰ : عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا، کہا: قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ مالک نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابن شہاب سے، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ ابن شہاب نے ابوسلمہ بن عبد الرحمن سے، انہوں نے أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ حضرت ابو ہریرہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِّنَ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے نماز کی ایک رکعت الصَّلَاةِ فَقَدْ أَدْرَكَ الصَّلَاةَ۔اطرافه: ٥٥٦ ٥٧٩ پالی تو اُس نے نماز پالی۔تشریح بات باب نمبرے میں روایت نمبر ۵۵۶ کی تشریح کرتے ہوئے بتایا جا چکا ہے کہ یہ اجازت استثنائی حالات کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔اسی وجہ سے باب ۱۷ اور باب ۲۸ کو مَنُ سے شروع کر کے فتویٰ میں جواز کی صورت نمایاں کی گئی ہے۔علامہ ابن حجر نے امام بخاری کے ایک لطیف تصرف کی طرف توجہ دلائی ہے جو انہوں نے باب مذکور کے الفاظ میں کیا ہے۔امام موصوف کی یہ عادت ہے کہ عنوان باب میں جو الفاظ وہ اختیار کرتے ہیں وہ کسی نہ کسی روایت سے ماخوذ ہوتے ہیں۔عموماً وہ اپنی طرف سے کچھ نہیں بڑھاتے۔یہاں بظاہر مَنْ أَدْرَكَ مِنَ الصَّلوةِ رَكْعَةٌ رَکھا ہے۔جبکہ روایت نمبر ۵۸۰ کے الفاظ یہ ہیں : مَنْ اَدْرَكَ رَكْعَةً مِّنَ الصَّلوة امام موصوف عموما عنوان باب میں بھی حدیث کے الفاظ کی پابندی کرتے ہیں۔مگر یہاں یہ تصرف اس لئے کیا ہے کہ امام مالک کی روایت میں جو بیہقی نے نقل کی ہے الفاظ مِنَ الصَّلوة پہلے ہیں۔(سنن الكبرى للبيهقى كتاب الجمعة باب من ادرك ركعة من الجمعة۔جز ۳ صفحه ۲۰۲) گو یا عنوان باب میں اس روایت کا بھی حوالہ دیا گیا ہے اور یہ تصرف اُن کی وسعت اطلاع پر دلالت کرتا ہے۔(فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۷۶ ) فَقَدْ أَدْرَكَ الصَّلوۃ سے مراد نماز کا وقت یا اس کا ثواب ہے یعنی باقی نماز جو پڑھے گا وہ وقت کے اندرہی سمجھی جائے گی۔فَلْيُتِمَّ صلوته ( نمبر ۵۵۶) اپنی نماز پوری کرے۔یہ مراد نہیں کہ ایک رکعت پڑھنے سے اُس کی نماز ہو جائے گی۔باقی رکعتیں پڑھنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔