صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 675
صحيح البخاري - جلد ا صلى الله ۶۷۵ ۹ - كتاب مواقيت الصلوة مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ لیہ سے ثابت ہوتا ہے کہ سحری کا وقت ختم ہونے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔ ان تین روایتوں سے احتمال پیدا ہو سکتا ہے کہ رمضان کی راتوں میں پچھلے وقت جاگنے کی وجہ سے یہ جلدی ہوتی تھی۔ اس لئے چوتھی روایت سے اس کا ازالہ کر دیا گیا ہے۔ عورتیں نماز پڑھ کرا۔ ر پڑھ کر ایسے وقت میں لوٹتی تھیں کہ اندھیرے کی وجہ سے پہچانی نہ جاتی تھیں۔ روایت نمبر ۵۴۷ میں جو آیا ہے کہ آپ ایسے وقت میں صبح کی نماز پڑھا کرتے تھے : حِينَ يَعْرِفُ الرَّجُلُ جَلِيسَه کہ آدمی اپنے ساتھی کو پہچان لیتا تھا۔ یہ روایت نمبر ۵۷۸ کے مفہوم کے خلاف نہیں۔ عورتیں بوجہ دور ہونے کے نہیں پہچانی جاتی تھیں ۔ جبکہ ایک قریب کا شخص پہچانا جاتا تھا۔ روایت نمبر ۵۶۶ ، ۵۷۰،۵۶۹،۵۶۷، ۵۷۸ سے معلوم ہوتا ہے کہ عورتیں بھی باجماعت نماز میں شریک ہوا کرتی تھیں ۔ عیدین میں بھی ان کی شرکت کا ذکر کتاب العلم باب ۳۲ روایت نمبر ۹۸ میں گزر چکا ہے۔ اس باب کے تعلق میں کتاب الصوم باب ۱۹ تشریح روایت نمبر ۱۹۲۱ بھی دیکھئے۔ باب ۲۸ : مَنْ أَدْرَكَ مِنَ الْفَجْرِ رَكْعَةً جس نے فجر کی نماز سے ایک رکعت پائی ٥٧٩ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ۵۷۹: عبداللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا۔ عَنْ مَالِكٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ انہوں نے مالک سے، مالک نے زید بن اسلم سے، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ وَعَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ زید بن اسلم نے عطا بن بیسار سے اور بسر بن سعید سے وَعَنِ الْأَعْرَجِ يُحَدِّثُوْنَهُ عَنْ أَبِي اور اعرج سے روایت کی کہ وہ ( تینوں ) اُن سے هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ بیان کرتے تھے۔ حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہے کہ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَدْرَكَ مِنَ الصُّبْحِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے سورج رَكْعَةً قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَقَدْ نکلنے سے پہلے صبح کی نماز سے ایک رکعت پالی تو اُس أَدْرَكَ الصُّبْحَ وَمَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ نے صبح کی نماز پالی اور جس نے سورج غروب ہونے الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَقَدْ سے پہلے عصر کی نماز سے ایک رکعت پالی تو اس نے أَدْرَكَ الْعَصْرَ۔ اطرافه: ٥٥٦، ٥٨٠۔ عصر کی نماز پالی۔ تشریح : بابے کی تشریح بھی دیکھئے۔ علامہ ابن جر نے امام بخاری کے ایک لطیف تصرف سے متعلق قابل قدر نکتہ اپنی شرح میں درج کیا ہے۔ باب نمبرے میں جو روایت نقل کی ہے اُس میں نماز عصر کا ذکر پہلے ہے اس لئے