صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 674
صحيح البخاري - جلد ا ام ۹۷ ۹ - كتاب مواقيت الصلوة يَقْرَأُ الرَّجُلُ خَمْسِيْنَ آيَةً۔ کرنے کے درمیان کتنا فاصلہ تھا۔ انہوں نے کہا: جتنی دیر میں آدمی پچاس آیتیں پڑھ لیتا ہے۔ طرفه: ١١٣٤ ٥٧٧ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي ۵۷۷: اسماعیل بن ابی اولیس نے ہم سے بیان أُوَيْسٍ عَنْ أَخِيهِ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِي کیا ۔ انہوں نے اپنے بھائی سے، ان کے بھائی نے حَازِمٍ أَنَّهُ سَمِعَ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ يَقُولُ سلیمان سے، سلیمان نے ابوحازم سے روایت کی کہ كُنْتُ أَتَسَخَرُ فِي أَهْلِي ثُمَّ يَكُوْنُ انہوں نے سہل بن سعد سے سنا۔ وہ کہتے تھے: میں سُرْعَةً بِي أَنْ أُدْرِكَ صَلَاةَ الْفَجْرِ مَعَ اپنے کنبے کے ساتھ سحری کھایا کرتا تھا تو مجھے جلدی رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ ہوتی کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صبح طرفه: ۱۹۲۰ کی نماز پالوں۔ ٥٧٨ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ قَالَ ۵۷۸: یحی بن بگیر نے ہم سے بیان کیا، کہا: لیث أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنِ ابْنِ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عقیل سے عقیل نے ابن شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ شہاب سے روایت کی ۔ انہوں نے کہا: عروہ بن زبیر أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ قَالَتْ كُنَّ نِسَاءُ نے مجھے بتایا : حضرت عائشہ نے انہیں خبر دی۔ فرماتی الْمُؤْمِنَاتِ يَشْهَدْنَ مَعَ رَسُولِ اللهِ تھیں: مومن عورتیں صبح کی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْفَجْرِ وَسلم کے ساتھ پڑھا کرتی تھیں۔ اپنی اوڑھنیوں میں مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوْطِهِنَّ ثُمَّ يَنْقَلِبْنَ إِلَى لپٹی ہوئی ہوتیں۔ پھر جب وہ نماز ادا کر چکتیں تو اپنے بُيُوتِهِنَّ حِيْنَ يَقْضِيْنَ الصَّلَاةَ لَا اپنے گھروں کو لوٹ جاتیں۔ اندھیرے کی وجہ سے يَعْرِفُهُنَّ أَحَدٌ مِّنَ الْغَلَسِ۔ اطرافه ٣٧٢، ٨٦٧، ٨٧٢ کوئی اُن کو نہ پہچانتا۔ ہے۔ پہلی تین تشریح : اس باب میں بھی امام بخاری نے واقعات کی بناء پر واقعات کی بناء پر صبح کے وقت کا ایک اندازہ بیان کیا ہے۔ روایتوں سے یہ بتایا ہے کہ نماز صبح کا وقت سحری سے فراغت پانے پر ہو جاتا ہے۔ سحری کھانے کی آخری حد نا پر فجر ہے۔ یعنی وہ وقت ، جب پو پھٹتی ہے۔ روایت نمبر۷ ۵۷ کے الفاظ ثُمَّ يَكُونُ سُرْعَةٌ بِی بِي أَنْ أُدْرِكَ صَلوةَ الْفَجْرِ