صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 673 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 673

حيح البخاري - جلد ا ۹ - كتاب مواقيت الصلوة اعمالِ صالحہ سب جنت میں لے جانے کا موجب ہوتے ہیں۔عصر فجر کی تخصیص جیسا کہ پہلے مفصل بتایا جا چکا ہے اس لئے کی گئی ہے کہ ان اوقات میں مسلمان کو اپنے نفس سے خاص جد و جہد کر کے اپنے اخلاص کا ثبوت دینا پڑتا ہے۔اس تخصیص کے یہ معنے نہیں کہ ان کے سوا کوئی اور اعمال نہیں جو جنت میں داخل ہونے کا موجب ہوں۔اخلاص کی روح جب ایک دفعہ دل میں پیدا ہو جاتی ہے تو وہ اپنے لئے اعمال صالحہ کے امکان کی صورتیں اور حالات خود بخود پیدا کرتی جاتی ہے۔بَاب ۲۷ : وَقْتُ الْفَجْرِ صبح کا وقت ۵۷۵ عمر و بن عاصم نے ہم سے بیان کیا، کہا: ٥٧٥ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ ہمام نے ہمیں بتایا۔انہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ حَدَّثَهُ أَنَّهُمْ تَسَخَرُوا حضرت انس سے روایت کی کہ حضرت زید بن ثابت مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ نے ان سے بیان کیا: انہوں نے نبی ﷺ کے ساتھ قَامُوْا إِلَى الصَّلَاةِ قُلْتُ كَمْ بَيْنَهُمَا سحری کھائی۔پھر وہ نماز کے لئے اُٹھے۔میں نے قَالَ قَدْرُ خَمْسِيْنَ أَوْ سِتَيْنَ يَعْنِي آيَةً پوچھا کہ کھانے اور نماز کے درمیان کتنا فاصلہ تھا؟ انہوں نے جواب دیا: بقدر پچاس یا ساٹھ آیت۔طرفه: ۱۹۲۱۔٥٧٦ : حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ صَبَاحٍ :۵۷۶ حسن بن صباح نے ہم سے بیان کیا کہ سَمِعَ رَوْحًا حَدَّثَنَا سَعِيْدٌ عَنْ قَتَادَةَ انہوں نے روح سے سنا۔(انہوں نے کہا: ) سعید عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی نے ہمیں بتایا۔انہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ حضرت انس بن مالک سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ تَسَخَّرَا فَلَمَّا فَرَغَا مِنْ سَحُوْرِهِمَا علیہ وسلم اور حضرت زید بن ثابت نے سحری اکٹھی قَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى کھائی۔جب دونوں اپنی سحری کھانے سے فارغ الصَّلَاةِ فَصَلَّيَا قُلْنَا لِأَنَسٍ كَمْ كَانَ ہو گئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لئے اُٹھے اور بَيْنَ فَرَاغِهِمَا مِنْ سَحُوْرِهِمَا وَ دونوں نے نماز پڑھی۔ہم نے حضرت انس سے کہا: دُخُولِهِمَا فِي الصَّلَاةِ قَالَ قَدْرُ مَا ان کے سحری سے فارغ ہونے اور نماز کے شروع