صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 672 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 672

صحيح البخاري - جلد ا ۶۷۲ ۹ - كتاب مواقيت الصلوة إِسْمَاعِيلَ عَنْ جَرِيرٍ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى ابن شہاب نے اسمعیل سے روایت کرتے ہوئے یہ رض اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ عِيَانًا ۔ } بڑھایا : حضرت جریر سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ضرور تم اپنے رب کو کھلم کھلا دیکھو گے۔ إطرافه: ٥٥٤ ، ٤٨٥١، ٧٤٣٤، ٧٤٣٥، ٧٤٣٦۔ ٥٧٤ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ ۵۷۴ بد به بن خالد نے ہم سے بیان کیا، کہا: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنِي أَبُو جَمْرَةَ عَنْ ہمام نے ہمیں بتایا کہ ابو جمرہ نے مجھ سے بیان کیا۔ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُوسَى عَنْ أَبِيْهِ أَنَّ انہوں نے ابو بکر بن ابی موسیٰ سے، ابوبکر نے اپنے رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ باپ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مَنْ صَلَّى الْبَرْدَيْنِ دَخَلَ الْجَنَّةَ وَ قَالَ فرمایا: جس نے دو ٹھنڈے وقتوں کی نماز پڑھی تو وہ ابْنُ رَجَاءٍ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ أَبِي جنت میں داخل ہوا اور ابن رجاء نے کہا: ہمام نے جَمْرَةَ أَنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ ہمیں بتایا۔ ابو جمرہ سے مروی ہے کہ ابوبکر بن عبداللہ قَيْسٍ أَخْبَرَهُ بِهَذَا۔ بن قیس نے بھی ان کو یہی بتایا۔ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ عَنْ حَبَّانَ اسحاق نے ہمیں بتایا۔ حبان سے مروی ہے کہ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا أَبُو جَمْرَةَ عَنْ ہمام نے ہم سے بیان کیا۔ ابوجمرہ نے ہمیں بتایا۔ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ عَنِ انہوں نے ابوبکر بن عبداللہ سے۔ انہوں نے اپنے النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ۔ باپ سے۔ ان کے باپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ۔ تشریح : بعض نسخوں میں عنوانِ باب میں فَضْلُ صَلوةِ الْفَجْرِ کے بعد الفاظ وَالْحَدِیث بھی ہیں۔ علامہ ابن حجر کا خیال ہے کہ جن نسخوں میں یہ الفاظ ہیں اُن میں تحریف معلوم ہوتی ہے۔ وَالْحَدِیث کی بجائے وَالْعَصْرِ چاہیے۔ یعنی نماز عصر کی فضیلت ۔ ( فتح الباری الجزء الثانی صفحه ۷۰ ) اس حدیث ریت کی تشریح کے لئے دیکھئے روایت نمبر ۵۵۴ او را دیکھئے روایت نمبر ۵۵۴ اور اس باب کے ذیل میں روایت نمبر ۵۷۴۔ اس میں نماز عصر اور فجر کو بَر دَین سے تعبیر کیا گیا ہے۔ عصر کے وقت؟ ا گیا ہے۔ عصر کے وقت بھی گرمی کی شدت کم ہو کر فضا میں خنکی پیدا ہو جاتی ہے۔ مسلم کی روایت میں اَلْبَر دَین کی تصریح ان الفاظ میں کی گئی ہے : يَعْنِي الْعَصْرَ وَالْفَجْرَ۔ (مسلم۔ كتاب المساجد باب فضل صلاتي الصبح والعصر)