صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 671
صحيح البخاری جلد ا ۹ - كتاب مواقيت الصلوة هكذا سے معلوم ہوتا ہے کہ اپنی خواہش اور پسندیدگی کو امت کی مشقت پر مقدم نہیں کیا بلکہ اس کے لئے سہولت کی راہ اختیار کی ہے۔اس لئے استثنائی واقعات کی بناء پر یہ فتوی دینا کہ نماز عشاء آخر وقت میں پڑھنی مستحب ہے صحیح نہیں۔مستحب وہی فعل ہے جو آپ نے عام طور پر کیا۔امام نووی کا خیال ہے کہ نصف الليل کی حد تو وہ وقت ہے جس میں نماز پڑھنا پسندیدہ ہے ورنہ نماز فجر تک عشاء کا وقت ہے۔عنوانِ باب میں اس خیال کا بھی رد کیا گیا ہے۔علامہ ابن حجر کو امام نوویؒ کے خیال کی تائید میں کوئی مستند روایت نہیں ملی۔(فتح الباری الجزء الثانی صفحه ۶۹ ) آدھی رات کے بعد تو تہجد کا وقت ہوتا ہے نہ عشاء کا۔جمہور کا یہی مذہب ہے اور امام بخاری بھی اس سے متفق ہیں۔بَابِ ٢٦: فَضْلُ صَلَاةِ الْفَجْرِ صبح کی نماز کی فضیلت ٥٧٣: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا ۵۷۳ مسدد نے ہم سے بیان کیا، کہا: جی نے يَحْيَى عَنْ إِسْمَاعِيْلَ حَدَّثَنَا قَيْسُ ہمیں بتایا۔انہوں نے اسماعیل سے روایت کی (کہا :) قَالَ لِي جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ كُنَّا عِنْدَ قیس نے ہمیں بتایا۔حضرت جریر بن عبداللہ نے مجھ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ نَظَرَ سے کہا کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے۔اتنے میں آپ نے چودھویں کی رات چاند کو دیکھا إِلَى الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ فَقَ لَ أَمَا إِنَّكُمْ اور فرمایا: سنو کہ تم یقینا اپنے رب کو دیکھو گے اسی طرح سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ كَمَا تَرَوْنَ هَذَا لَا جس طرح کہ تم اس کو دیکھ رہے ہو۔تمہیں اس بات تُضَامُوْنَ أَوْ لَا تُضَاهُوْنَ فِي رُؤْيَتِهِ کی ضرورت نہ ہوگی کہ تم ایک دوسرے سے لپٹ کر فَإِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لَّا تُغْلَبُوا عَلَى پوچھو کہ دکھاؤ کہاں ہے؟ یا یہ فرمایا تمہیں اس کے صَلَاةٍ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ دیکھنے میں شبہ نہ ہوگا۔پس اگر تم سے ہو سکے تم اس غُرُوبِهَا فَافْعَلُوْا ثُمَّ قَالَ فَسَبِّحْ نماز کے پڑھنے میں مغلوب نہ ہونا جو سورج نکلنے اور اس کے ڈوبنے سے پہلے ہے تو پھر ایسا ہی کرو۔پھر بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَ آپ نے پڑھا: فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ اپنے قَبْلَ غُرُوبِهَا (طه: ۱۳۱) { * قَالَ رب کی حمد کے ساتھ سورج نکلنے اور اس کے غروب أَبُو عَبْدِ اللَّهِ زَادَ ابْنُ شِهَابٍ عَنْ ہونے سے پہلے تسبیح کیا کرو۔* ابوعبداللہ نے کہا: یه فقرہ فتح الباری مطبوعہ انصاریہ کے مطابق ہے۔(دیکھئے فتح الباری الجزء الثانی حاشیہ صفحہ ۷۰)