صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 670 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 670

صحيح البخاري - جلد ا ۶۷۰ ۹ - كتاب مواقيت الصلوة باب ٢٥: وَقْتُ الْعِشَاءِ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ عشاء کا وقت آدھی رات تک ہے وَقَالَ أَبُو بَرْزَةَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ اور حضرت ابو برزہ نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَحِبُّ تَأْخِيْرَهَا ۔ میں تاخیر پسند فرماتے تھے۔ ٥٧٢: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ ۵۷۲ : عبدالرحیم محاربی نے ہم سے بیان کیا، کہا: الْمُحَارِبِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ زائدہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حمید طویل سے ، حمید حُمَيْدِ الطَّوِيْلِ عَنْ أَنَسٍ قَالَ أَخَرَ نے حضرت انس سے روایت کی ۔ انہوں نے کہا: نبی نے عشاء کی نماز میں آدھی رات تک تاخیر کر النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعِشَاءِ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ ثُمَّ صَلَّى ثُمَّ دی۔ پھر آپ نے نماز پڑھی اور فرمایا: لوگ نماز پڑھ قَالَ قَدْ صَلَّى النَّاسُ وَنَامُوا أَمَا إِنَّكُمْ چکے اور سو گئے۔ مگر دیکھ تم لوگ تو نماز میں ہی تھے جب تک تم اس کی انتظار کرتے رہے اور ابن ابی مریم فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرْتُمُوهَا وَزَادَ ابْنُ نے اس کے علاوہ یہ بیان کیا کہ یحی بن ایوب نے أَبِي مَرْيَمَ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ سَمِعَ أَنَسًا كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيْصِ خَاتَمِهِ لَيْلَتَئِذٍ۔ إطرافه: ٦٠٠، 661، 847، 5869۔ ہمیں بتایا کہ حمید نے مجھ سے بیان کیا اور انہوں نے حضرت انس سے سنا: گویا کہ میں آپ کی انگوٹھی کی چمک اب بھی دیکھ رہا ہوں جو اُس رات تھی۔ یح روایت نمبر ۵۶۹ میں اِلی ثُلُثِ اللَّيْلِ الأَوَّلِ یعنی رات کی پہلی ہائی کاذکر کا ذکر ہے۔ عام حالا- عام حالات میں صحابہ کرام اس سے پہلے پہلے پڑھ لیتے تھے اور آخری حد جس کا پتہ مستند روایات سے چلتا ہے اِلی نِصْفِ اللَّيْلِ یعنی آدھی رات تک ہے جو استثنائی حالت میں تھی۔ روایت نمبر ۵۶۷ میں ہے: اَعْتَمَ بِالصَّلوةِ حَتَّى ابْهَارَّ اللَّيْلُ بهرة کے معنے وسط یعنی آدھی رات ہوگئی۔ (لسان العرب تحت لفظ بھر ) ان روایتوں کی بناء پر عنوان باب میں اِلی نِصْفِ اللَّيْلِ آخری حد مقرر کی گئی ہے۔ حضرت ابو برزہ کا قول وَكَانَ النَّبِيُّ لا يَسْتَحِبُّ تَأْخِيرَهَا روایت نمبر ۵۴۷ میں دیکھئے۔ اس میں نِصْفِ اللیل کی تصریح نہیں بلکہ مطلق تاخیر کا ذکر ہے جس کی آخری حد عام حالات میں پہلی تہائی رات کی ہے اور استثنائی حالات میں نِصْفِ اللَّيْل یعنی آدھی رات ہے۔ روایت نمبر ۱ ۵۷ کے الفاظ لَوْ لَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَا مَرْتُهُمْ أَنْ تُصَلُّوا