صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 664
صحيح البخاری جلد ا ۶۶۴ ۹ - كتاب مواقيت الصلوة بَابِ ۲۲ : فَضْلُ الْعِشَاءِ نماز عشاء کی فضیلت ٥٦٦ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ قَالَ ۵۶۶ یحی بن بکیر نے ہم سے بیان کیا، کہا: لیث حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلِ عَنِ ابْنِ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے تحصیل سے، عقیل نے ابن شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ شہاب سے ابن شہاب نے عروہ سے روایت کی کہ قَالَتْ أَعْتَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ حضرت عائشہ نے انہیں خبر دی۔کہتی تھیں : رسول اللہ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ بِالْعِشَاءِ وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات عشاء کی نماز میں يَفْشُوَ الْإِسْلَامُ فَلَمْ يَخْرُجُ حَتَّى قَالَ بہت دیر کردی اور یہ ( واقعہ ) اسلام پھیلنے سے پہلے کا عُمَرُ نَامَ النِّسَاءُ وَالصَّبْيَانُ فَخَرَجَ ہے۔آپ باہر نہیں آئے۔یہاں تک کہ حضرت عمرؓ فَقَالَ لِأَهْلِ الْمَسْجِدِ مَا يَنْتَظِرُهَا نے کہا: عورتیں اور بچے سو گئے ہیں۔اس پر آپ باہر أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ غَيْرُكُمْ۔آئے اور مسجد والوں سے فرمایا کہ زمین کے باشندوں میں سے کوئی تمہارے سوا اس کا انتظار نہیں کر رہا۔اطرافه ٥٦٩، ٨٦٢، ٨٦٤۔٥٦٧ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ۵۶۷ محمد بن علاء نے ہم سے بیان کیا، کہا: قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدِ عَنْ ابو اسامہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے بُرید سے، بُرید أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ كُنْتُ أَنَا نے ابی بردہ سے، ابو بردہ نے حضرت ابوموسی سے وَأَصْحَابِي الَّذِيْنَ قَدِمُوا مَعِي فِي روایت کی۔وہ کہتے تھے۔میں اور میرے اُن ساتھیوں السَّفِينَةِ نُزُولًا فِي بَقِيْعِ بُطْحَانَ نے جو میرے ساتھ کشتی میں آئے تھے بطحان کے وَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ میدان میں ڈیرے لگائے ہوئے تھے اور نبی صلی اللہ فَكَانَ يَتَنَاوَبُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ علیہ وسلم مدینہ میں تھے۔ان میں سے کچھ لوگ ہر وَسَلَّمَ عِنْدَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ كُلَّ لَيْلَةٍ نَّفَرٌ رات نماز عشاء کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مِّنْهُمْ فَوَافَقْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ پاس باری باری جایا کرتے تھے۔میں اور میرے