صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 665
صحيح البخاري - جلد ا ۶۶۵ ۹ - كتاب مواقيت الصلوة وَسَلَّمَ أَنَا وَأَصْحَابِي وَلَهُ بَعْضُ ساتھی اتفاقا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایسے وقت الشُّغْلِ فِي بَعْضِ أَمْرِهِ فَأَعْتَمَ بِالصَّلَاةِ پہنچے کہ آپ اپنے کسی کام میں مشغول تھے۔ آپؐ نے حَتَّى ابْهَارَ اللَّيْلُ ثُمَّ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى نماز میں دیر کر دی۔ یہاں تک کہ آدھی رات ہو گئی۔ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِهِمْ فَلَمَّا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور آپ قَضَى صَلَاتَهُ قَالَ لِمَنْ حَضَرَهُ عَلَى نے نماز پڑھائی۔ جب آپ اپنی نماز پڑھ چکے تو رِسْلِكُمْ أَبْشِرُوا إِنَّ مِنْ نِعْمَةِ اللهِ آپؐ نے اُن سے جو آپ کے پاس موجود تھے فرمایا: عَلَيْكُمْ أَنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ ذرا ٹھہرو! خوش ہو کہ تم پر یہ بھی اللہ تعالیٰ کا فضل ہے، يُصَلِّي هَذِهِ السَّاعَةَ غَيْرُكُمْ أَوْ قَالَ مَا لوگوں میں سے تمہارے سوا کوئی بھی ایسا نہیں جو اس صَلَّى هَذِهِ السَّاعَةَ أَحَدٌ غَيْرُكُمْ لَا وقت نماز پڑھ رہا ہو یا فرمایا کہ اس گھڑی تمہارے سوا يَدْرِي أَيَّ الْكَلِمَتَيْنِ قَالَ ، قَالَ أَبُو کسی نے بھی نماز نہیں پڑھی۔ وہ نہیں جانتے کہ ان دو باتوں میں سے کون سی بات فرمائی۔ (ابو بردہ نے ) مُوسَى فَرَجَعْنَا فَفَرِحْنَا بِمَا سَمِعْنَا مِنْ رَّسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ۔ کہا: حضرت ابو موسیٰ کہتے تھے : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سن کر خوشی خوشی لوٹے۔ شارحین نے یہاں یہ سوال یہ سوال اُٹھایا ہے کہ اس باب میں جو روایتیں لائی گئی ہیں ان سے نماز عشاء کی کوئی ثابت نہیں ہوتی ۔ (دیکھئے عمدۃ القاری الجزء الخامس صفحہ ۶۳ - فتح البارى الجزء الثانی صفحه ۶۳) مگر غور سے دیکھا جائے تو اس کی فضیلت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول سے ظاہر ہے: لَيْسَ أَحَدٌ مِّنَ النَّاسِ يُصَلِّى هذِهِ السَّاعَةَ غَيْرُ كُمُ ( روایت نمبر ۵۶۷) کہ یہ ایسا وقت ہے کہ تمام لوگ خواب غفلت میں پڑے سورہے ہیں۔ مگر ایک چھوٹی سی جماعت اللہ تعالیٰ کے حکم کی بجا آوری اور اُس کی عبادت کے شوق میں نیند کے حملوں کا مقابلہ کر رہی ہے۔ الفاظ وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَفْشُوَ الْإِسْلَامُ (روایت نمبر ۵۶۲) اسی قلت کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس اس عجیب عجیب ن نظارے سے متاثر ہوئے اور در صحابہؓ صحاب نے بھی اس کیفیت ت ۔ سے لطف اُٹھایا ہے اور اپنے گھروں کو خوشی خوشی لوٹے ہیں۔ اس اخلاص و محبت کا یہ نظارہ ہر عاشق کو اب بھی وجد میں لاتا ہے۔ إِنْ مِنْ نِعْمَةِ اللَّهِ عَلَيْكُمْ (روایت نمبر ۵۷۷) محبت و عشق کی یہ غعمت اللہ تعالیٰ کے فضل ہی سے مل سکتی ہے۔ علاوہ ازیں مذاہب عالم میں سے اسلام کے سوا کسی مذہب نے بھی اس وقت میں عبادت کرنے کا حکم عبادت کرنے کا حکم نہیں دیا اور یہ امتیاز جو صرف مسلمانوں کو حاصل ہے ایک بہت بڑا امتیاز ہے۔ ہے۔ فجر ، ظہر، عصرا ظہر، عصر اور مغرب کے اوقات ایسے ایسے ہیں کہ جن میں مذاہب نے کسی نہ کسی رنگ میں اپنے