صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 663
صحيح البخاری جلد ا ۶۶۳ ۹ - كتاب مواقيت الصلوة روایت نمبر ۵۶۴ کتاب العلم باب السمر فی العلم روایت نمبر ۱۶ میں بھی گزر چکی ہے جو سالم اور ابو بکر بن عبد الرحمن سے ایک اور سند کے ساتھ مروی ہے۔چونکہ اس میں تاخیر کا معنی مضمر تھا اس لئے یہ لفظ ترک کر دیا گیا تایہ نہ سمجھ لیا جائے کہ اسے دیر سے ہی پڑھنا چاہیے۔روایت نمبر ۵۴۷ اور نمبر ۵۶۴ سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ نے آخر میں یہ نام چھوڑ دیا تھا اور کوئی ایسی روایت نہیں ملتی جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ لفظ استعمال فرمایا ہو۔اس سے آپ کی دوراندیشی اور احتیاط کا پتہ چلتا ہے۔آپ کی اصلاح زمانہ جاہلیت کے تارو پود اور اس کے رگ وریشہ کی گہرائیوں تک اثر انداز تھی۔بَاب ۲۱ : وَقْتُ الْعِشَاءِ إِذَا اجْتَمَعَ النَّاسُ أَوْ تَأَخَّرُوْا عشاء کا وقت جب لوگ اکٹھے ہو جائیں یا دیر کریں :٥٦٥ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ :۵۶۵ مسلم بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا، کہا: قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَعْدِ بن شعبہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے سعد بن ابراہیم سے، إِبْرَاهِيْمَ عَنْ مُّحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو هُوَ سعد نے محمد بن عمرو سے جو کہ حسن بن علی کے بیٹے ہیں ابْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَلِي قَالَ سَأَلْنَا جَابِرَ روایت کی کہ وہ کہتے تھے: ہم نے حضرت جابر بن ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عبد اللہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے متعلق عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ كَانَ يُصَلِّي الظُّهْرَ پوچھا۔انہوں نے کہا: آپ ظہر تو دوپہر کے بعد پڑھا بِالْهَاجِرَةِ وَالْعَصْرَ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ کرتے تھے اور عصر ایسے وقت میں پڑھتے تھے کہ وَالْمَغْرِبَ إِذَا وَجَبَتْ وَالْعِشَاءَ إِذَا سورج ابھی روشن ہوتا اور مغرب ایسے وقت میں كَثُرَ النَّاسُ عَجَّلَ وَإِذَا قَلُوْا أَخَرَ پڑھتے جب سورج غروب ہو جاتا اور عشاء جب لوگ زیادہ ہو جاتے تو جلدی پڑھتے اور جب کم ہوتے تو وَالصُّبْحَ بِغَلَسٍ۔طرفه: ٥٦٠ تاخیر فرماتے اور صبح اندھیرے میں پڑھتے۔تشریح : بعض کا خیال ہے کہ اگر نماز اول وقت پڑھی جائے تواس کو عشاء اور اگر دیر سے پڑھی جائے تواس کو عتمہ کہتے ہیں۔اس باب میں یہ خیال رد کیا گیا ہے۔(فتح الباری الجزء الثانی صفحہ ۶۳) اس روایت سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ لوگوں کے اکٹھا ہونے کا بھی خیال رکھا جاتا تھا۔