صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 662 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 662

صحيح البخاري - جلد ا ۶۶۲ ۹ - كتاب مواقيت الصلوة فَإِنَّ رَأْسَ مِائَةِ سَنَةٍ مِّنْهَا لَا يَبْقَى مِمَّنْ رات کے بارے میں غور کیا ہے۔اس سے ایک سو سال کے آخر تک ان میں سے جو زمین پر ہیں؛ کوئی هُوَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ أَحَدٌ۔باقی نہیں رہے گا۔تشریح : اس باب میں چند اقوال کے حوالے دیتے ہوئے قرآن مجید کی آیت کی بناء پر تری اس بات کو دی ہے کہ بجائے عتمہ کے عشاء کہا جائے۔اقوال محولہ بالا مستند ہیں۔جو امام بخاری نے اس کتاب میں دوسری جگہ اسناد کے ساتھ نقل کئے ہیں۔وہ اقوال جن میں اغسم کا لفظ آتا ہے بتاتے ہیں کہ عشمہ عشاء کو کیوں کہتے تھے۔عَسَمہ کے معنی تاریکی۔اختم کے معنے اندھیرا کر دیا، دیر کر دی یا اندھیرا ہو گیا۔حضرت ابو ہریرہ کی روایت أَلْقَلُ الصَّلوةِ عَلَى الْمُنَافِقِيْنَ الْعِشَاءُ وَالْفَجْرُ کے لیے دیکھئے کتاب الاذان باب ۳۴ نمبر ۶۵۷ حضرت ابو ہریرہ کی روایت لَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي الْعَتَمَةِ وَالْفَجْرِ کے لیے دیکھئے کتاب الاذان باب ۹ روایت نمبر ۶۱۵۔حضرت ابو موسیٰ کی روایت كُنَّا نَتَنَاوَبُ النَّبِيَّ الله عِندَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ کے لیے دیکھئے باب ۲۲ روایت نمبر ۵۶۷۔حضرت ابن عباس کی روایت أَعْتَمَ النَّبِيُّ الله بِالْعِشَاء کے لیے دیکھئے باب ۲۴ روایت نمبر ۵۷۰۔حضرت عائشہ کی روایت اعْتَمَ النَّبي عل الله بِالْعِشَاء کے لیے دیکھئے باب ۲۴ روایت نمبر ۵۶۹۔حضرت عائشہ کی روایت أَعْتَمَ النَّبِيُّ الا الله بالعَتَمَةِ کے لیے دیکھئے کتاب الاذان باب ۱۶۲ روایت نمبر ۸۶۴ - صلى الله حضرت جابر کی روایت كَانَ النَّبِيُّ لا يُصَلَّى الْعِشَاءَ کے لیے دیکھئے باب ۲۱ روایت نمبر ۵۶۵۔و صلى الله و حضرت ابو برزہ کی روایت كَانَ النَّبِيُّ ل له يُؤَخِّرُ الْعِشَاءَ کے لیے دیکھئے باب ۱۳ روایت نمبر ۵۴۷۔حضرت انس کی روایت أَخَرَ النَّبِيُّ الا الله الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ کے لیے دیکھئے باب ۲۵ روایت نمبر ۵۷۲۔حضرت ابن عمر کی روایت صَلَّی النبی الا الله المغرب وَالْعِشَاءَ کے لیے دیکھئے کتاب الحج باب ۹۳ روایت نمبر ۱۶۶۸ ﷺ الْمَغْرِبَ نيز كتاب الحج باب ۹۶ روایت نمبر ۱۶۷۳۔حضرت ابوایوب کی روایت صَلَّى النَّبِی الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ کے لیے دیکھئے کتاب الحج باب ۹۶ روایت نمبر ۴ ۱۶۷۔حضرت ابن عباس کی روایت صلَّى النَّبِيُّ لا اله الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ کے لیے دیکھئے باب ۲۴ ردایت نمبر ۵۷۰۔روایت نمبر ۵۴۷ کے الفاظ الَّتِي تَدْعُونَهَا الْعَتَمَةَ اور روایت نمبر ۵۶۴ کے الفاظ وَهِيَ الَّتِي يَدْعُو النَّاسُ الْعَتَمَةَ سے معلوم ہوتا ہے کہ زمانہ جاہلیت میں عشاء کے وقت کو عتمہ کہتے تھے۔پنجابی میں اسے خفتاں کہا جاتا ہے اور دودھ کا نام عتمہ تھا جو قحط سالی کے دنوں میں رات کو بہت دیر سے دوہا کرتے تھے ، مبادا محتاج آ کر مانگیں۔بدو مغرب کے بعد اپنے مویشی چراگاہ میں چھوڑ دیتے تھے۔چرنے کے بعد انہیں اپنے تھانوں میں لے آتے اور دودھ اُترنے دیتے۔اس کے بعد اُن کو دوہتے۔اس دودھ کو بھی دیر سے دوہنے کی وجہ سے عتمہ کہتے تھے۔چونکہ بدوی کام کاج سے فارغ ہو کر نماز پڑھتے تھے۔اس لئے انہوں نے عشاء کی نماز کا نام صَلوةُ العَتَمَہ رکھا۔(فتح البارى الجزء الثانی صفحه ۶۰)