صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 3
صحيح البخاري - جلد ) ا - كتاب بدء الوحي ہے اور اس لئے وہ انعام یا سزا کا مستحق ہوتا ہے۔ اس تعریف کو مد نظر رکھ کر اِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ کا یہ مفہوم ہوگا کہ طبعی افعال کو عملی یا اخلاقی حیثیت نیتوں کی وجہ سے حاصل ہوتی ہے۔ ان معنوں کے اعتبار سے بالنِّيَّاتِ میں (ب) سببیہ ہے۔ دوسرا مفہوم اس حدیث کا یہ ہے کہ اعمال نیتوں ہی کے ساتھ انجام پاتے ہیں۔ کام کرنے کے لئے نیت کی ضرورت ہے۔ محض خیال یا آرزو یا میلان طبع یا رغبت یعنی دل کی پسندیدگی یا چاہت کسی کام کو سر انجام دینے کے لئے ہرگز کافی نہیں۔ نیت جس کا ماخذ نواة“ ہے اعمال کے لئے گٹھلی یا بیچ کا وہ درمیانی گورا ہے جس میں زندگی کی ساری قوتیں جمع ہوتی ہیں اور جس سے کونپلیں پھوٹتی ہیں اور اعمال کا درخت پھلتا پھولتا اور پھیلتا ہے۔ ۔ لفظ ” إِنَّمَا “ جو حصر کے لئے آتا ہے اس کا مفہوم اردو میں (ہی) کے لفظ سے ہم ادا کرتے ہیں۔ اس لفظ کو مد نظر رکھتے ہوئے إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ کے تیسرے معنے یہ ہوں گے کہ انسانی اعمال کے پیچھے ضرور ہے کہ نیتیں در پردہ کام کر رہی ہوں ۔ یعنی یہ ہو نہیں سکتا کہ انسان کام تو کر رہا ہو مگر اس کے پیچھے کوئی نیت نہ ہو۔ اگر کوئی نیت نہیں تو وہ فعل محض ایک طبعی حرکت ہوگی جس کو کوئی عملی حیثیت حاصل نہیں ہو سکتی ۔ اس حدیث کا ایک چوتھا مفہوم بھی ہے جس کی طرف امام بخاری علیہ الرحمۃ گئے ہیں اور وہ یہ ہے کہ نتائج کے اعتبار سے اعمال کی اہمیت نیتوں پر موقوف ہے جس قد ر قوت اور سنجیدگی نیت میں ہو گی اسی قدر قوت اور سنجیدگی سے عمل بھی صادر ہوگا۔ نیز اسی نسبت سے اس کے ساتھ انسان کے باقی اعمال بھی متاثر ہوں گے۔ ایک شخص جو گھر بنانے کی نیت کر لیتا ہے، اس نیت کے ساتھ معا اس کے عام اخراجات کی اقتصادی حالت میں تبدیلی پیدا ہو جائے گی بلکہ وہ آمدنی کے اور نئے نئے ذرائع سوچے گا اور اس کے لئے عمل کی نئی نئی صورتیں پیدا کرے گا۔ محنت و مشقت برداشت کر داشت کرے گا۔ اس کے کھانے پینے اور سونے جاگنے اس کی خوشی اور راحت کی گھڑیوں وغیرہ سب میں فرق آجائے گا۔ غرض نیت میں جس قدر پختگی ، جس قدر وضاحت، جس قدر یقین ، جس قدر وسعت و بلندی و ہمت ہوگی ؟ ٹھیک اسی تناسب سے اعمال بھی متاثر ہوں گے اور وہ مختلف شکل اختیار کرتے چلے جائیں گے۔ یہی ایک سربستہ راز ہے انسان کی ترقی کا اور اس کی ساری عملی زینت کا۔ ه اس ضمن میں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ بعض لوگ ناجائز اعمال کو اچھی نبا ائز اعمال کو اچھی نیت سے جائز بنانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ مثلاً رشوت اس لئے لیتے ہیں کہ صدقہ کریں۔ مگر یہ جائز نہیں۔ اور اس اعتبار سے پانچویں معنے حدیث کے یہ ہوں گے کہ اعمال کی صحت تو نیتوں کی صحت کے ساتھ ہے۔ نہ برا عمل اچھی نیت سے نیک بن جاتا ہے اور نہ بری نیت سے کوئی عمل جو بظاہر نیک ہو، نیک ہوتا ہے، جیسے ریا کی نماز ۔ باب ۲ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ قَالَ : ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ مالک نے ہمیں بتلایا۔ مالک نے ہشام بن عروہ أَبِيْهِ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِيْنَ رَضِيَ الله سے، ہشام نے اپنے باپ سے، اُن کے باپ نے