صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 2 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 2

صحيح البخاري - جلد ) ا - كتاب بدء الوحي : حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ عَبْدُ اللهِ بْنُ ا: ہم سے حمیدی یعنی عبداللہ بن زبیر نے بیان کیا، الزُّبَيْرِ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ حَدَّثَنَا کہا: سفیان نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے کہا کہ ہم سے يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ يحي بن سعيد انصاری نے بیان کیا کہ مجھے محمد بن أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ أَنَّهُ ابراہیم تھی نے خبر دی کہ انہوں نے علقمہ بن وقاص سَمِعَ عَلْقَمَةَ بْنَ وَقَاصِ اللَّيْنِيَّ يَقُولُ لیٹی سے سنا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت عمر بن سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ خطاب رضی اللہ عنہ سے جبکہ وہ منبر پر تھے؛ سنا۔ علیه وسلم عَنْهُ عَلَى الْمِنْبَرِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ إِنَّمَا سے سنا۔ آپ فرماتے تھے کہ اعمال تو نیتوں ہی پر الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَّا ہیں اور یہ کہ ہر انسان کے لئے وہی کچھ ہے جس کی نَوَى فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى دُنْيَا اس نے نیت کی ۔ پس جس نے دنیا کے پانے یا کسی يُصِيْبُهَا أَوْ إِلَى امْرَأَةِ يَنْكِحُهَا فَهِجْرَتُهُ عورت سے نکاح کرنے کی خاطر ہجرت کی ، اس کی ہجرت اُسی امر کے لئے ہوگی جس کی خاطر اس نے إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ۔ یہ ہجرت کی۔ اطرافه ٦٨٤، ١٢۰١، ۱۲۰٤، ۱۲۱۸، ۱۲۳۴، 93، 7190۔ تشریح : إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ کی حدیث بھی جوامع الکلم می سے ہے اور اس وجہ سے بعض علماء نے اس کو ایک تہائی اسلام قرار دیا ہے اور بع ہے اور بعض نے ایک تہائی علم کا اور امام بخاری فرماتے ہیں کہ اس حدیث سے بڑھ کر پر حکمت، پر معانی اور کوئی حدیث نہیں ۔ ( فتح الباری جزء اول صفحہ ۱۴) بلکہ سچ تو یہ ہے کہ دین کی ساری ما ماہیت اس ایک جملہ میں کوٹ کر بھر دی گئی ہے اور یہ جملہ در حقیقت بطور اس اصل الاصول کے ہے کہ جس سے انسان کو حیوان سے امتیاز حاصل ہوتا ہے اور جس کی بناء پر انسان کے طبعی افعال دائرہ اخلاق میں داخل ہو کر انسان کو ذمہ وار اور اعمال کی جواب دہ ہستی بنا دیتے ہیں اور شریعت کی تمام پابندیاں اس پر عائد ہو جاتی ہیں۔ اس لئے اس حدیث کی تھوڑی سی وضاحت کرنی از بس ضروری معلوم ہوتی ہے تا کہ اس کا تعلق اس باب سے اور نیز اس کتاب کے مضمون سے پورے طور پر واضح ہو جائے ۔ ا علماء اسلام نے فعل اور عمل کے درمیان یہ فرق بتلایا ہے کہ فعل طبعی حرکت کو کہتے ہیں جس میں نیت کا دخل نہیں اور عمل وہ فعل ہے جس میں نیت کا دخل ہو جو بالا رادہ قصداً کیا جائے ۔ جس کے کرنے پر انسان کا طبعی فعل اچھا یا برا کہلاتا