صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 4 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 4

صحيح البخاري - جلد ) ا - كتاب بدء الوحي عَنْهَا أَنَّ الْحَارِثِ بْنَ هِشَامٍ رَضِيَ اللهُ حضرت عائشہ ام المومنین رضی اللہ عنہا سے روایت کی عَنْهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کہ حضرت حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ يَأْتِيْكَ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: یا رسول اللہ ! آپ کے الْوَحْيُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ پاس وحی کس طرح آیا کرتی ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْيَانًا يَأْتِينِي مِثْلَ صَلْصَلَةِ عَلیہ وسلم نے جواب دیا بھی تو گھٹی کی چھنکار کی مانند الْجَرَسِ وَهُوَ أَشَدُّهُ عَلَيَّ فَيُفْصَمُ عَنِّي وہ میرے پاس آتی ہے اور یہ (وحی ) مجھ پرسخت ترین ہوتی ہے اور وہ مجھ سے ایسی حالت میں الگ ہوتی وَقَدْ وَعَيْتُ عَنْهُ مَا قَالَ وَأَحْيَانًا يَتَمَثَّلُ ہے کہ جو اس نے کہا ہوتا ہے میں اُسے ذہن نشین کر لِيَ الْمَلَكُ رَجُلًا فَيُكَلِّمُنِي فَأَعِيْ مَا چکا ہوتا ہوں اور کبھی فرشتہ آدمی کی شکل میں میرے يَقُوْلُ قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا سامنے آکھڑا ہوتا ہے اور مجھ سے باتیں کرتا ہے اور وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَنْزِلُ عَلَيْهِ الْوَحْيُ فِي جو وہ کہتا ہے میں اسے ذہن ، ذہن نشین کئے جاتا تا ہوں۔ الْيَوْمِ الشَّدِيدِ الْبَرْدِ فَيَفْصِمُ عَنْهُ وَإِنَّ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں : میں نے آپ جَبِيْنَهُ لَيَتَفَصَّدُ عَرَقًا۔ طرفه ٣٢١٥۔ کو دیکھا کہ آپؐ پر وحی سخت سردی کے دن نازل ہوتی اور پھر آپ سے ایسی حالت میں جدا ہوتی کہ آپ کی پیشانی سے پسینہ پھوٹ رہا ہوتا ۔ تشريح كَيْفَ يَأْتِيْكَ الْوَحْيُ : كَيْفَ بَدْءُ الْوَحْيِ کے عوان کے ماتحت ما تحت دوسری حدیث جو امام بخاری نے نقل کی ہے، اس میں وحی کی کیفیت کے متعلق دو مشاہدے مذکور ہیں۔ ایک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جن پر وہ کیفیت گذرتی ہے اور ایک حضرت عائشہ کا جو اس کیفیت کے ظاہری آثار دیکھنے والی ہیں۔ جو جواب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حارث بن ہشام کو دیا اس سے یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ وحی کی صرف یہی دو صورتیں ہیں۔ بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور نمونہ ان صورتوں کی دو بڑی قسمیں بیان فرمائی ہیں جو آسانی سے مجھی جاسکتی ہیں اور یہ دونوں حالتیں قوائے جسمانیہ پر گراں گزرتی ہیں۔ پہلی حالت زیادہ سخت ہے ۔ قَدْ وَعَيْتُ یعنی جب وحی کی یہ حالت موقوف ہوتی ہے تو وہ کلام میرے ذہن میں نقش ہو چکا ہوتا ہے۔ وحی کے معنی پتھر پر لکیر ڈالنے کے بھی ہوتے ہیں ۔ (لسان العرب تحت لفظ و حي ) E اور دوسری حالت کے متعلق فرمایا: فَاعِي یعنی میں ساتھ ساتھ وہ کلام ذہن نشین کرتا جاتا ہوں۔ اس میں شعور