صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 645
صحيح البخاری جلد ا ۶۴۵ ۹ - كتاب مواقيت الصلوة ٥٥٠ : حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ ۵۵۰ ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا، کہا : شعیب أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ نے ہمیں بتایا کہ زہری سے مروی ہے۔ انہوں نے حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ كَانَ کہا: حضرت انس بن مالک نے مجھے بتایا، کہا: رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز پڑھتے اور سورج يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ حَيَّةٌ ابھی بلند اور روشن ہوتا اور جانے والا عوالی کو جاتا اور فَيَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى الْعَوَالِي فَيَأْتِيْهِمْ اُن کے پاس ایسے وقت پہنچتا کہ سورج ابھی بلند وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ وَبَعْضُ الْعَوَالِي مِنَ ہوتا اور مدینہ سے بعض عوالی چار میل یا اس کے الْمَدِينَةِ عَلَى أَرْبَعَةِ أَمْيَالٍ أَوْ نَحْوِهِ۔ قریب ہیں۔ اطرافه ٥٤٨، 551، ٧٣٢٩۔ ٥٥١ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ۵۵۱: عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا، کہا: قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كُنَّا نُصَلِّي ابن شہاب نے حضرت انس بن مالک سے روایت الْعَصْرَ ثُمَّ يَذْهَبُ الذَّاهِبُ مِنَّا إِلَى کی کہ انہوں نے کہا: ہم عصر کی نماز پڑھتے پھر ہم میں قُبَاءِ فَيَأْتِيْهِمْ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ۔ سے جانے والا قباء کی طرف جاتا وہ ان کے پاس آتا اطرافه ٥٤٨، ٥٥٠، ٧٣٢٩۔ اور سورج ابھی بلند ہوتا ۔ تشريح : مِنْ قَعْرِ حُجْرَتِهَا : ا : میں جو ضمیر ہے وہ حضرت عائشہ حضرت عائشہ کی طرف جاتی ہے۔ امام بخاری کی یہ عادت ہے کہ کسی راوی کے لفظی اختلاف کو روایت کے بعد بطور تعلیق (حوالہ ) نقل کرتے ہیں ۔ مگر یہاں عنوانِ باب میں ابواسامہ کی روایت کا حوالہ دیتے ہوئے الفاظ مِنْ قَعْرِ حُجْرَتِهَا نمایاں کر کے دکھائے ہیں۔ ابو اسامہ کی روایت میں وَالشَّمْسُ فِي قَعْرِ حُجْرِتِی ہے۔ (عمدة القارى۔ الجزء الخامس ۔ صفحه ۳۴) قَعُرُ كُلِّ شَيْءٍ : أَقْصَاهُ - یعنی قَعْرْ کسی چیز کی انتہائی حد کو کہتے ہیں۔ (لسان العرب تحت لفظ قعر ) اس لیے الفاظ محولہ بالا کے یہ معنی ہونگے کہ دھوپ ان کے حجرہ میں انتہائی حد تک ہوتی ۔ اس سے امام بخاری روایت نمبر ۵۴۴، ۵۴۵ اور نمبر ۵۴۶ میں سورج کے حجرہ میں ہونے کا جو ذکر آیا ہے ، اس کے مفہوم کی طرف توجہ دلانا چاہتے ہیں کہ ابھی سورج کافی اونچا ہوتا جب آپ عصر کی نماز سے فارغ ہوتے ۔ کیونکہ دھوپ سے متعلق قاعدہ یہ ہے کہ کمرےا اعدہ یہ ہے کہ کمرے اور دروازے جتنے