صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 644
البخارى- جلد ا سوم وام ۶ ۹ - كتاب مواقيت الصلوة اطرافه ٥٤١، ٥٦٨، ۰۹۹، ۷۷۱۔الْعَتَمَةَ وَكَانَ يَكْرَهُ النَّوْمَ قَبْلَهَا عَتَمَه (اندیر ) کہتے ہو تاخیر پسند فرماتے تھے اور وَالْحَدِيثَ بَعْدَهَا وَكَانَ يَنْفَتِلُ مِنْ اس سے پہلے سونا اور اس کے بعد بات کرنا ناپسند صَلَاةِ الْغَدَاةِ حِيْنَ يَعْرِفُ الرَّجُلُ فرماتے اور آپ صبح کی نماز سے ایسے وقت (فارغ جَلِيْسَهُ وَيَقْرَأُ بِالسِّقِيْنَ إِلَى الْمِائَةِ۔ہوکر ) پھر تے کہ جب آدمی اپنے ساتھی کو پہچان لیتا اور آپ ساٹھ سے سو تک آیتیں پڑھتے۔٥٤٨ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ۵۴۸ عبد اللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا۔عَنْ مَّالِكِ عَنْ إِسْحَاقَ بْن عَبْدِ اللَّهِ انہوں نے مالک سے، مالک نے اسحاق بن عبد اللہ ابْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكِ ابن ابی طلحہ سے، انہوں نے حضرت انس بن مالک قَالَ كُنَّا نُصَلِّي الْعَصْرَ ثُمَّ يَخْرُجُ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: ہم عصر پڑھتے پھر الْإِنْسَانُ إِلَى بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ انسان بنی عمرو بن عوف کو جاتا تو انہیں عصر کی نماز فَيَجِدُهُمْ يُصَلُّونَ الْعَصْرَ۔اطرافه ۰۰۰، ۰۰۱، ۷۳۲۹ پڑھتے ہوئے پاتا۔٥٤٩: حَدَّثَنَا ابْنُ مُقَاتِلٍ قَالَ ۵۴۹ ابن مقاتل نے ہم سے بیان کیا، کہا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ عبداللہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے کہا: ابوبکر بن عثمان ابْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ بن سہل بن حنیف نے ہم سے بیان کیا، کہا: میں نے سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ يَقُوْلُ صَلَّيْنَا مَعَ ابو امامہ کو کہتے سنا کہ ہم نے عمر بن عبدالعزیز کے عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الظُّهْرَ ثُمَّ خَرَجْنَا ساتھ ظہر کی نماز پڑھی۔پھر ہم نکل کر حضرت انس بن حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ مالک کے پاس آئے تو ہم نے انہیں عصر کی نماز فَوَجَدْنَاهُ يُصَلِّي الْعَصْرَ فَقُلْتُ يَا عَمَ پڑھتے ہوئے پایا۔میں نے کہا: چا! یہ کیا نماز تھی جو مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ الَّتِي صَلَّيْتَ قَالَ آپ نے پڑھی ہے؟ انہوں نے کہا: عصر اور یہی الْعَصْرُ وَهَذِهِ صَلَاةُ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ہے جو ہم آپ کے اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي كُنَّا نُصَلِّي مَعَهُ۔ساتھ پڑھا کرتے تھے۔